1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مالیاتی بحران: ساؤپاؤلو اجلاس اور چین کا بروقت اقدام

بین الاقوامی مالیاتی بحران ابھی تک عالمی سطح پر شدید مشکلات کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس کے اثرات پرقابو پانے کے لئے امریکہ، جاپان، برطانیہ، جرمنی اوردیگر ملکوں کی طرح اب چین نے بھی کئی سوارب ڈالرمالیت کے منصوبےکا اعلان کیا ہے۔

default

مالیاتی بحران کے ایشیائی ملکوں پر اثرات کتنے شدید ہوں گے

چین جواپنی برآمدات کے حوالے سے ایشیائی ملکوں میں بہت ہی نمایاں ہے، عالمی مالیاتی بحران کے باوجود ابھی تک یہ توقع کررہا ہے کہ اگلے برس اس کی معیشت میں ترقی کی شرح آٹھ اور نو فیصد کے درمیان رہے گی۔

IWF-Chef Strauss-Kahn: Finanzkrise wird Wachstum bremsen

IMF کے سربراہ ڈومینیک شٹراؤس کاہن

اس کے باوجود چین کی ریاستی کونسل کہلانے والی ملکی کابینہ نے اب 2010 تک کے لئے چار ٹریلین ین یا 586 بلین ڈالر مالیت کے ایک ایسے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے ذریعے ایشیا کی اس ریاست میں سماجی نوعیت کے منصوبوں کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی اور یہ عمل بالواسطہ طور پر مشکلات کی شکار عالمی معیشت میں بہتری کا باعث بنے گا۔

اسی دوران برازیل میں صنعتی طور پر ترقی یافتہ اور ترقی کی دہلیز پر پہنچ جانے والی ریاستوں کے بیس کے گروپ یا G-20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے صدور نے، جن کے ملکوں کا عالمی معیشت میں حصہ 90 فیصد بنتا ہے، یہ فیصلہ کیا کہ بیس کے گروپ میں شامل ریاستیں مالیاتی بحران کے اثرات کا مقابالہ کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، چاہے اس کے لئے انہیں اپنے اخراجات میں اضافہ کرناپڑے یا پھر شرح سود میں مزید کمی کے فیصلے۔

چین کی طرف سے معیشی کارکردگی میں تیزی لانے کے لئے منظور کئے گئے قریب 600 بلین امریکی ڈالرمالیت کے ریاستی منصوبے کے حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سربراہ ڈومینیک شٹراؤس کاہن نے کہا کہ یہ بیجنگ حکومت کا ایک ایسا بروقت اقدام ہے جس کے عالمی معیشت پر اثرات بہت مثبت ہوں گے۔

اسی دوران برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں G-20 میں شامل ملکوں کے سالانہ اجلاس کے بعد میزبان ملک کے وزیر خزانہ گیڈو مانٹیگا نے کہا کہ اس وزارتی اجلاس کے شرکاء میں یہ اتفاق پایا گیا کہ عالمی مالیاتی بحران کے شدید منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر بہت مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔

بین الا قومی مالیاتی بحران ہی کے تناظر میں پندرہ نومبر کے روز واشنگٹن میں ایک عالمی مالیاتی سربراہ کانفرس بھی ہوری ہے جس میں یہ بحث کی جائے گی کہ عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے ملکوں کی حکومتوں کو آئندہ مہینوں میں کیا اقدامات کرنا ہوں گے اور یہ بھی کہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کی کارکردگی کی نگرانی کے عمل کو بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے۔