1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مالیاتی بحران: ارب پتی جرمن صنعتکار کی خود کشی

جرمنی کے امیر ترین شہریوں میں شمار ہونے والے 74 سالہ صنعتکار آڈولف میرکلے نے خود کشی کرلی ہے جس کا سبب بین الاقوامی مالیاتی بحران کی وجہ سے ان کے صنعتی گروپ کو ہونے والے نقصانات بنے۔

default

آڈولف میرکلے کی 2007 میں لی گئی ایک تصویر

جنوبی جرمنی میں صوابیہ کے علاقے کے رہنے والے آڈولف میرکلے نے اپنے پیچھے ایک بہت بڑا کاروباری گروپ تو چھوڑا ہے۔ مگر کچھ عرصہ پہلے تک عام جرمن شہری ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔ پھر جب انہیں اپنے صنعتی گروپ کو قرضے دینے والے 30 کے قریب بینکوں کے ساتھ کئی ہفتوں تک مذاکرات کرنا پڑے تووہ سرخیوں کا موضوع بھی بن گئےاور انہیں میرکلے گروپ کا مستقبل بھی تاریک نظر آنے لگا۔

میرکلے گروپ کو جرمن کارساز ادارے فولکس واگن کے شیئرز کی خریداری کی بعد مالیاتی بحران کے باعث کئی سو ملین یورو کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ پھر مالیاتی اداروں نے اس گروپ کو لازمی طور پر درکار 700 ملین اور ایک بلین یورو کے درمیان مالیت کے نئے قرضے دینے سے انکار کردیا تو میرکلے شدید دباؤ میں آگئے۔

کچھ عرصہ قبل یہی بینک میرکلے گروپ کو ہنگامی بنیادوں پر قرضے فراہم کرنے پر تیار تو ہو گئے تھے مگر آڈولف میرکلے جو ایک چھوٹے صنعتکار سے اس مقام پر پہنچے تھے کہ ان کے صنعتی گروپ کی سالانہ آمدنی تقریبا 30 بلین یورو بنتی تھی، اپنی سرمایہ دارانہ طاقت سے محرومی کو برداشت نہ کرسکے۔

Arzneimittelhersteller Ratiopharm Adolf Merckle

میرکلے گروپ کی اہم ترین کمپنی راسیوفارم جرمنی کے بہت بڑے دواسازاداروں میں شمار ہوتی ہے

آڈولف میرکلے نے اپنے والد کے انتقال کےبعد جب ان کا خاندانی کاروبار سنبھالا توجدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اسے جلد ہی بہت زیادہ ترقی بھی دی۔ انہوں نے اپنی کمپنی کا نام Ratiopharm رکھا جو آج جرمنی کی انتہائی کامیاب اور بہت بڑی دوا ساز کمپنی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس دواساز ادارے کی کاروباری مالیت پانچ اور چھ بلین یورو کے درمیان تھی اور اسے ابھی بھی سالانہ 1.8 بلین یورو کی آمدنی ہوتی ہے۔

راسیو فارم کی زبردست کامیابی کے بعد میرکلے گروپ نے کئی بڑے بڑے ادارے خرید لئے جن میں تعمیراتی سازوسامان تیار کرنے والے ہائیڈل بیرگ سیمنٹ سے لے کرخاص طرح کی گاڑیاں تیار کرنے والی Kässbohrer نامی کمپنی بھی شامل ہے۔

میرکلے گروپ کے دنیا بھر میں ملازمین کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے اور اس کے اثاثوں میں راسیو فارم نامی دوا ساز کمپنی کو ہمیشہ ہی خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ آڈولف میرکلے نے اپنی زندگی میں یہ بات کئی بار کہی تھی: "ہمیں دواسازی کرتے ہوئے چار نسلیں ہو گئی ہیں۔ اب اس ادارے کا انتظام میرے بچوں کے پاس ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ ادارہ ابھی چند سو سال تک میرے ہی خاندان کے انتطام میں رہے گا۔"

آڈولف میرکلے کی خود کشی کے بعد بینکوں نے ان کے گروپ VEM کے لئے 400 ملین یورو مالیت کے عبوری قرضوں کی منظوری تو دے دی ہے مگر شرط یہ ہے کہ VEM کوراسیو فارم کو بیچنا ہوگا تاکہ اس گروپ کی مالی حالت طویل المدتی بنیادوں پر بہتر بنائی جاسکے۔ یوں آڈولف میرکلے کی موت کے بعد میرکلے گروپ بھی وہ نہیں رہے گا جو وہ کبھی تھا۔