1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالدیپ میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات سے تعلقات میں پیشرفت

مالدیپ میں سارک ممالک کے سربراہان کی کانفرنس میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کو طویل عرصے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

default

اس ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ کی جانب سے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کے آئندہ دور میں ٹھوس پیشرفت دیکھنے کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم گیلانی نے منموہن سنگھ کے ساتھ پانی ، دہشت گردی ، سرکریک ، سیاچن ، کشمیر اور تجارت جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونیوالی یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں نے مارچ میں کرکٹ ورلڈ کپ کے موقع پر بھارتی شہر موہالی میں پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیم کے درمیان کھیلے گئے میچ کے موقع پر ملاقات کی تھی۔

تاہم تجزیہ نگار جمعرات کے روز ہونیوالی ملاقات کو اس لحاظ سے اہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے پاکستان نے سولہ برس بعد بھارت کو تجارت کے لیے ’’موسٹ فیورٹ نیشن‘‘ قرار دیا تھا۔ سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے جانے سے قبل پاک بھارت وزرائے خارجہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد کے فقدان میں کمی آئی ہے۔

Anschläge Indien Mumbai Taj Hotel

ممبئی 2008ء کے حملوں کے بعد پاکستان بھارت تعلقات میں انتہائی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی

پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ اور تجزیہ نگار ڈاکٹر مہدی حسن نے پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ملاقات ایک سربراہ کانفرنس میں ہوئی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ جو کچھ یہاں حاصل ہوا اس کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے سربراہوں اور مختلف سطحوں پر ملاقاتیں ہونی چاہئیں۔ یہ پاکستان آئیں پاکستان کے سربراہ وہاں جائیں اور ون ٹو ون ملاقات میں اپنے مسائل پر تبادلہ خیال کریں تو اس سے مثبت نتائج نکلیں گے جس کا فائدہ نہ صرف دونوں ممالک کی عوام بلکہ اس خطے کے لوگوں کو بھی ہوگا۔‘‘

تاہم پاکستان میں دائیں بازو کے دانشور، سیاسی جماعتیں ، مذہبی تنظیمیں حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو یکطرفہ کوشش قرار دے رہی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا ہے، ’’امن پائیدار ہونا چاہیے اور اس کی بنیاد یہی ہے کہ وہ سیاچن اور کشمیر سے فوجوں کے انخلاء کی بات کریں اور یہ پہلی سیڑھی ہو گی اس کے بعد جب ہماری کشیدگی ختم ہو گی تو تجارت کو فروغ دے کر آگے بڑھتے رہیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم ان پر تکیہ کرتے ، رعایت دینے پر تیار ہو رہے ہیں لیکن اس طرف سے ایسی کوئی بات نہیں اس لیے یہ معاملہ دیرپا نہیں ہو سکتا۔‘‘

دوسری جانب پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے کوششیں کرنے والی سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ بھارت کو کسی قسم کی رعایت نہ دینے کی سوچ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہو سکتے۔

ساؤتھ ایشیاء فری میڈیا ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری امتیاز عالم کا کہنا ہے، ’’یہ جو خیال ہے کہ تجارت ہو یا حساس موضوعات ہوں ، پہلے حساس موضوعات پر بات ہو پھر تجارت ہو یہ دونوں سوچیں ماضی میں نہیں چل سکیں اور نہ اب ان کا نتیجہ نکلے گا۔  آج بھی جو لوگ شور مچا رہے ہیں کہ دیکھیں کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور یہ بات چیت اور تجارت آگے کیسے بڑھ رہی ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ بات چیت کے دوران پہلے وہ مسئلے حل ہوتے ہیں جنہیں حل کرنا آسان ہوتا ہے۔‘‘

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM