1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالدووا کے انتخابات میں ترقی پسند جماعتوں کی برتری

مشرقی یورپ ریاست مالدووا میں بدھ کے روز منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی آخری مراحل میں ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ابھی تک کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔

default

مالدووا کے پارلیمانی الیکشن میں ووٹوں کی گنتی جاری

ملکی الیکشن کمیشن کے مطابق تقریبا 98 فیصد ووٹوں کی گنتی کی جا چکی ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق چار ترقی پسند جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے 50 فیصد کے قریب ووٹ حاصل کئے ہیں۔ دوسری طرف صدر ولادمیر وورونن کی کمیونسٹ جماعت کئی حلقوں میں ناکامی کے باوجود 45.1 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد اکثریت حاصل کرنے والی واحد سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے۔

مالدووا کی کل 101 نشستوں پر مشتمل ملکی پارلیمان میں 61 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت نئے صدر کا انتخاب کرتی ہے۔ اس لئے مالدووا میں مغرب نواز اپوزیشن جماعتوں کو نئے صدر کے انتخاب کے لئے 61 نششتیں درکار ہوں گی۔

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم OSCE نے مالدووا کے انتخابات کو مجموعی طور پر صاف اور شفاف قرار دیا ہے، مالدووا میں ان انتخابات کی نگرانی کرنے والے OSCE مشن کے سربراہ Boris Frlec نے کہا کہ تاہم ان انتخابات کے دوران ملکی ذرائع ابلاغ کا رویہ جانب دار رہا ہے۔

Moldau Unruhen in Chisinau Demonstration

اپریل میں صدروورونن مخالف مظاہروں کا منظر

OSCE کے مبصرین کے مطابق ان انتخابات سے مالدووا کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان سیاسی اختلاف رائے بھی واضح طور پر سامنا آیا ہے۔ مالدووا کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر افراد کمیونسٹوں کے حامی ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں مغربی جمہوری نظام کے حامی نوجوان ترقی پسند جماعتوں کے حق میں ہیں۔

ان پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدر وورونن کی کمیونسٹ جماعت کو واضح کامیابی حاصل نہ ہونے کے باعث یہ امر واضح ہے کہ صدر وورونن کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے ان کی سیاسی جماعت کو کم از کم ایک اپوزیشن جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا۔

مالدووا کے انتخابات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق صدر وورونن مالدووا کی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے گزشتہ ماہ ملکی پالیمان کو تحلیل کرکے نئے انتخابات کا اعلان کیا تھا۔

اسی سال اپریل میں ہوئے ناکام پارلیمانی انتخابات میں کمیونسٹوں کو 60 فیصد نشستوں پر کامیابی ملی تھی، جس کے بعد ملک کے نوجوان ترقی پسند اپوزیشن قیادت کی سرپرستی میں صدر وورونن کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے اور انہوں نے انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM