1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالاکنڈ ڈویژن: عوام کی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں

مالاکنڈ ڈویژن کے صدرمقام مینگورہ می‍ں سیکیورٹی فورسز نے جمعرات کو اچانک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام داخلی اورخارجی راستوں کو ٹریفک کے لئے بند کردیا۔

default

اس دوران تمام تعلیمی ادارے بند اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دن کے بارہ بجے اچانک شہری علاقوں میں کرفیو کا اعلان کردیا۔ سیکیورٹی فورسز کے دستوں نےسڑکوں پر گشت شروع کردیا جبکہ اس دوران دو درجن سے زائد مشتبہ افرادکو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

شام کے وقت کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا گیا۔ مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع سوات کے عوام کو جہاں امداد کی وصولی اور ب‍حالی میں مشکلات کا سامنا ہیں، وہاں شدید بارشوں اوربرفباری نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

مینگورہ کالام روڈ گزشتہ دو ہفتوں سے بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں ادویات اور اشیائے ضرورت کی کمی ہے۔امدادی اشیا تقسیم کرنے کے مراکز اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر سمیت کئی ملکی اور بین الااقوامی این جی اوز کے دفاتر بھی بند ہیں۔ صوبائی حکومت موجودہ وسائل میں اشیائے ‍خوردونوش اورگرم کپڑے فراہم کرنے کی کوشش کرتی رہی تاہم بین الاقوامی ادارو‌ں اور ‌وفاقی حکومت سے بروقت امداد کی عدم فراہمی کاشکوہ بھی کیا ہے۔

Pakistan Swat-Tal

مالاکنڈ ڈویژن کے مٹاثرین کے لئے ماہانہ امداد میں اضافہ کیا گیا ہے، حکام

ماہرین کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کی ب‍حالی اورتعمیرنو میں جہاں کئی سال درکارہوں گے وہاں لاگت کاابتدائی ت‍خمینہ تین ارب ڈالرلگایاگیا ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی برادری امداد کے وعدے وفا نہ کرسکی لیکن اس کے باوجود سرحد حکومت کے ساتھ ہرممکن تعاون کرتی ہے اوربھرپور امداد فراہم کررہی ہے۔

بے گھر افراد کیلئے وزیراعظم کی خصوصی مشیر عاصمہ عالمگیرکاکہنا ہے، ’مرکز فنڈز ریلیز کرتا ہے لیکن ساتھ ہی مانٹیرنگ بھی کرتا ہے کیونکہ ہم ایک شفاف سسٹم چاہتے ہیں۔ ہمیں جو بھی امداد ملتی ہے صوبوں کوفراہم کرتے ہیں، صوبائی حکومت نے جو بھی مطالبہ کیاہے ہم نے پورا کیا ہے۔ ہماری مشترکہ میٹنگز ہوتی ہیں۔ کبھی ایسی بات نہیں کی۔ سسٹم ٹھیک چل رہا ہے۔ اب یہ صوبائی حکومت پرمنحصر ہے کہ ملنے والی رقوم کو کس طرح استعمال میں لاتی ہے۔‘

عاصمہ عالمگیر کاکہنا ہے کہ فرینڈز آف پاکستان نے اس طرح امداد فراہم نہیں کی، جیسی ہمیں توقع تھی لیکن حکومت نے ترقیاتی منصوبے کم کرکے مالاکنڈ کے متاثرہ عوام کی مدد کی۔ پہلے پانچ ہزار روپے دیتے تھے اور اب اس رقم میں اضافہ کردیاگیاہے۔

ان کاکہناتھاکہ کیری لوگر بل کے ذریعے امدادکاسلسلہ شروع ہوجائے توسب سے زیادہ حصہ مالاکنڈ اورقبائلی علاقوں کا ہوگا۔

رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور

ادارت: ندیم گِل

DW.COM