1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مالاکنڈ آپریشن، پاکستانی ذرائع ابلاغ میں

مبصرین کا خیال ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کےلئے لڑی جانے والی "میڈیا وار" میں طالبان کے مقابلے میں پاک فوج کا پلہ قدرے بھاری دکھائی دے رہا ہے۔

default

اخبارات کے اداریوں سے لے کر ٹی وی چینلوں کے اشتہارات تک جگہ جگہ ملٹری آپریشن کی حمایت جاری ہے

پاکستان کے صوبہ سرحد میں طالبان کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں کون فتحیاب ہو گا؟ اس سوال کا واضح جواب سامنے آنے میں ابھی کچھ دیر باقی ہے لیکن بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کےلئے لڑی جانے والی "میڈیا وار " میں طالبان کے مقابلے میں پاک فوج کا پلہ قدرے بھاری دکھائی دے رہا ہے۔

Pakistan Belagerung Rote Moschee

پاکستانی فوج کے فوجی آپریشن کو پاکستانی زرائع ابلاغ ’جہاد‘ قرار دے رہے ہیں



پاکستانی ذرائع ابلاغ میں طالبان کے خلاف جاری ملٹری آپریشن کی خبریں چھائی ہوئی ہیں اگرچہ طالبان کا موقف پوری طرح سے سامنے نہیں آرہا ہے۔ سیاسی میدان میں بھی جماعت اسلامی اور عمران خان کے علاوہ فوجی آپریشن کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی قابل ذکر شخص یا گرو ہ باقی نہیں رہا ہے لیکن دوسری طرف زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے سوات اور اس کے گردو نواح میں جاری فوجی آپریشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور پاک فوج کی ابلاغی فوجی حکمت عملی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

پاک فوج کی حمایت کے اظہار کے لیے اپنے گھروں پر قومی پرچم لہرانے کی ایک تحریک بھی شروع کی جا چکی ہے۔ نمایاں شخصیات کی طرف سے اپنے گھروں پر پرچم لہرانے کی خبریں میڈیا پر اہتمام سے چھاپی اور دکھائی جا رہی ہیں۔ گمنام ٹیلیفون نمبروں سے آنے والے طالبان مخالف ایس ایم ایس اور ای میلز کی بھر مار بھی جاری ہے۔ کئی ٹی وی چینلز پاک فوج کے آپریشن کی فوٹیج کے ساتھ ایسے جنگی ترانے بھی نشر کر رہے ہیں جن کے بول کچھ اس طرح سے ہیں:

جا گ اٹھا ہے سارا وطن ساتھیو، مجاہدو !
جو بھی رستے میں آئے گا کٹ جائے گا
رن کا میدان لاشوں سے پٹ جائے گا
آج دشمن کا تختہ الٹ جائے گا
ہر جری صف شکن ہر جواں تیغ زن
ساتھیو، مجاہدو! جاگ اٹھا ہے سارا وطن

Pakistan Flüchtlinge aus dem Swat Tal

بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے

اخبارات کے اداریوں سے لے کر ٹی وی چینلوں کے اشتہارات تک جگہ جگہ ملٹری آپریشن کی حمایت جاری ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار کے پہلے صفحے پر نمایاں طور پر شائع کی جانے والی ایک خبر میں ملک کے 44 سے زائد علماء کا یہ بیان چھاپا گیا ہے کہ "سیکیورٹی فورسز آپریشن نہیں بلکہ جہاد کر رہی ہیں‘‘ کچھ ایسی ہی صورت ِحال دیگر ذرائع ابلاغ میں بھی نظر آ رہی ہے۔

پاکستان کے بعض اخباری اداروں کو طالبان کےلئے نرم گوشہ رکھنے کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے رویوں میں اچانک یہ تبدیلی کیسے آگئی؟ انٹر سروسز پبلک ریلنشنز کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے اس آپریشن کے شروع ہونے سے پہلے ذرائع ابلاغ کے مالکوں، ایڈیٹروں اور نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے ان کو اس فوجی آپریشن کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ذرائع ابلاغ ذمہ دارانہ صحافت کر رہے ہیں۔ انہیں قومی مفاد کے تقاضوں کا احساس ہے۔ اس لیے میڈیا میں ایسی خبروں کی بھر مار دیکھنے میں نہیں آ رہی جن کے منفی اثرات فوجی آپریشن پر پڑنے کا اندیشہ ہو۔

دوسری طرف انگریز ی اخبار ددی نیشن‘ کے مدیر عارف نظامی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کا فوجی آپریشن کے حوالے سے رویہ مثبت بھی رہا ہے اور منفی بھی۔ ان کے مطابق صوفی محمد کی براہ راست نشر کی جانے والی تقریروں اور ایک خاتون کو طالبان کی طرف سے سر عام کوڑے مارے جانے کے واقعات دکھانے کی وجہ سے عوامی جذبات کو طالبان کی اسلام دشمن سر گرمیوں کے خلاف ابھارنے میں مدد ملی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی میڈیا کئی قسم کے دبائو کا سامنا کرتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لانے کی کوششیں بھی کر رہا ہے۔ عارف نظامی کے مطابق بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

Bdt Modenschauen in Pakistan

پاکستانی فوج کے آپریشن کو لبرل حلقوں کی خاص طور پر حمایت حاصل ہو رہی ہے

عارف نظامی کے مطابق میڈیا کو احتیاط کرنا چاہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی فریق کے ہاتھوں استعمال نہ ہو بلکہ حقائق کو منظر عام پر لانے کی کوششیں کرے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں پاکستانی فوج کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی بعض مذہبی جماعتوں کا تعاون میسر رہتا تھا۔ آج کل فوجی آپریشن کی حمایت میں ملک کے سیکیولر اور لبر ل طبقے کا کرادار بہت نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔

1965 میں جب پاک فوج کے جوان بھارت کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے تو اُس وقت کی معروف گلو کارہ نور جہاں نے یہ معروف گیت گایا تھا:

اے وطن کے سجیلے جوانو
میرے نغمے تمہارے لیئے ہیں

آج پاکستان کی فوج طالبان کے خلاف بر سر پیکا ر ہے اور ایک ٹی وی چینل کے ذریعے یہی نغمہ سوات کے ملٹر ی آپریشن میں شریک پاک فوج کے جوانوں کے حق میں سنوایا جا رہا ہے۔