1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالاکنڈ آپریشن: مہاجرین کے لیے ڈونرز کانفرنس

پاکستانی صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن اور اس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے افراد کی امداد کے لیے اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی امدادی اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

default

پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے مہاجرین کی امداد کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا ہے

Pakistan Flash-Galerie

اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کے کسی بھی حصّے میں اندرونِ ملک ہجرت کرنے والوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے


مذکورہ اجلاس حکومتِ پاکستان کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کانفرنس کے آغاز کے موقع پر مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین یا اندرونِ ملک مہاجرین کی مدد کے لیے بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

Pakistan Flüchtlinge Kinder vor UNHCR Zelten

ایک غیر جانب دار ادارہ تشکیل دیا جائے جو کہ امدادی رقوم کی متاثرین تک شفّاف رسائی کو ممکن بنا سکے، سول سوسائٹی کی تنظیموں کا موقف


غیر جانب دار اعداد و شمار کے مطابق مالاکنڈ ضلع میں ایک ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں کم از کم پندرہ لاکھ افواد نے شورش ذدہ علاقوں سے نقل مکانی کی ہے۔ صوبِہ سرحد کی حکومت کے مطابق یہ تعداد پچیس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ افواجِ پاکستان اس تعداد کو دس اور پندرہ لاکھ کے درمیان بتا رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اندرونِ ملک مہاجرین کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔ ان مہاجرین کا ایک چوتھائی حصّہ امدادی کیمپوں میں گزر بسر کر رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کے کسی بھی حصّے میں اندرونِ ملک ہجرت کرنے والوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی اس ڈونرز کانفرنس میں مختلف ممالک اور امدادی تنظیمیں بھاری رقوم کا وعدہ کریں گی تاہم پاکستان کی بعض غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کا اعتراض ہے کہ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد بھی بین الاقوامی برادری نے بھر پور امداد کی تھی مگر وہ تمام کی تمام زلزلے سے متاثرہ افراد تک نہیں پہنچ سکی۔ ان تنظیموں کا اصرار ہے کہ ایک غیر جانب دار ادارہ تشکیل دیا جائے جو کہ امدادی رقوم کی متاثرین تک شفّاف رسائی کو ممکن بنا سکے۔

DW.COM