1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مالاکنڈ آپریشن: بچوں کا مستقبل خطرے میں

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستانی علاقے مالاکنڈ میں تعلیم کے حوالے سے پانچ لاکھ بچوں کا مستقبل شدید خطرات کا شکار ہے۔ یونیسیف کے مطابق فوجی آپریشن کے باعث اسکولوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

default

Das Logo und der Schriftzug der Hilfsorganisation UNICEF sind am 5. Februar 2008 an der Zentrale in Koeln zu sehen.

آپریشن کے باعث پانچ لاکھ سے زائد بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، یونیسیف

بچوں کی بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے فنڈ UNICEF کے پاکستان میں اعلیٰ عہدیدار الُک چاؤوِن Luk Chauvin کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی لڑائی کا اسکولوں اور بچوں پر بہت ہی منفی اثر پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ لاکھ سے زائد بچوں کی تعلیم کا ہرج والدین کے لئے شدید پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔

عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد قریب 25 لاکھ متاثرین میں سے اکثریت اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکی ہے۔ تاہم واپس پہنچنے والے والدین میں سے بیشتر اس بات پر پریشان ہے کہ ان کے بچوں کے اسکول بالکل تباہ ہوچکے ہیں۔

چاؤون کے مطابق علاقے میں 230 اسکول بالکل ہی ملیا میٹ ہوگئے ہیں۔ جبکہ مزید 410 اسکولوں کی چھتیں اور دیواریں گولہ باری کی وجہ سے گِر چکی ہیں۔ طالبان عسکریت پسند لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہونے کی وجہ سے علاقے میں اپنے دو سالہ کنٹرول کے دوران متعدد اسکولوں کو تباہ کرچکے تھے۔ جبکہ دوران آپریشن بھی وہ اسکولوں کو اس لئے نشانہ بناتے رہے کیونکہ سیکیورٹی فورسز سرکاری اسکولوں کو بطور کیمپ استعمال کر رہی تھیں۔

پاکستان کے لئے یونیسف کے اعلی عہدیدار لُک چاؤون کا کہنا ہے کہ علاقے میں دیگر چار ہزار کے قریب پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں بھی تعلیمی سلسلہ شروع کرنے سے قبل ان کی مناسب مرمت اور تزئین و آرائش کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان میں اکثر اسکول دوارن آپریشن متاثرہ علاقے چھوڑنے والے افراد کے لئے عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ پناہ لینے والے افراد کی طرف سے اسکول میں موجود فرنیچر کو آگ جلانے کے لئے بطور ایندھن استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے وہاں اب ضروری فرنیچر بھی دستیاب نہیں ہے۔

Soldat in Mingora / Pakistan

لاکھوں افراد نقل مکانی بھی کر گئے

وادی سوات میں بحالی کا کام کرنے والی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ علاقے کے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر میں اسکول سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کو وادی سوات سمیت متاثرہ علاقوں میں بجلی پانی اور صحت کی سہولیات کے ساتھ دیگر بنیادی ضروریات کی بحالی کے لئے درکار فنڈز کا اب تک محض تین فیصد ہی مل پایا ہے۔ چاؤون کا کہنا ہے کہ امداد فراہم کرنے والوں کی جانب سے بھی اسکولوں کی بحالی کے معاملے کو سب سے کم اہمیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاق تو ہے کہ تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، تاہم جب بات اس پر عمل کرنے کی آتی ہے تو اسے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

ادھر پاکستان میں نئی تعلیمی پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے مطابق سال2015 تک شرح تعلیم کو 85 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے آئندہ سات سال تک مجموعی ملکی پیداوار کا سات فیصد تعلیم کے لئے مختص کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم میر ہزار خان بجرانی کے مطابق اب گیارہویں اور بارہویں جماعت کی تعلیم کالج کے بجائے اسکول کی سطح پر دی جائے گی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM