1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالاکنڈ آپریشن: اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس

اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس میں منظور کی گئی 16 نکاتی متفقہ قرارداد میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے آئین اور ریاست کی بالا دستی اور حکومتی عملداری کے قیام میں وفاقی حکومت کو ہر طرح کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

default

سوات سے آنےوالےمہاجرین کےمردان میں قائم ایک کیمپ کےچندنابالغ مکین: معصوم چہرے، انگنت سوال

پیر کے روز وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اس کل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس قرارداد میں عسکریت پسندوں کی موجودہ بغاوت کے خلاف قوم کو متحد کرنے کے علاوہ اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد کی دیکھ بھال کے لئے موثر انتظامات کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ قرارداد میں ملکی خود مختاری اور سالمیت پر ڈرون میزائل حملوں سمیت ہر طرح کی جارحیت کی مذمت بھی کی گئی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے ایک متحد کمان کے زیر انتظام محفوظ ہیں اور ملک میں کسی بھی جگہ پر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ خالصتاً پاکستانی ریاست کا ہونا چاہئے۔

وزیر اطلاعات کائرہ نے یہ بھی کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے سوات میں جاری فوجی کارروائی کی بھی حمایت کی ہے اور اسی لئے وزیر اطلاعات کے بقول پاکستانی عوام بھی اس جنگ میں متحد ہو کر حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔

Pakistan Flash-Galerie

اپنی جانیں بچانے کے لئے سوات سے نقل مکانی پر مجبور ہوجانے والے شہری

قمر الزمان کائرہ نے کہا: "یہ بات بالکل واضح ہے کہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی صرف کوئی علاقائی خطرہ نہیں ہیں بلکہ یہ پاکستان کی ریاست کو درپیش خطرات بھی ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس جنگ کے اثرات عمومی طور پر پوری دنیا میں محسوس کئے جارہے ہیں اور اسی لئے اس جنگ میں پاکستان کے پاس واحد آپشن جیت ہے۔"

قبل ازیں آل پارٹیز کانفرنس میں شریک پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے سربراہ آفتاب احمدخان شیر پاؤ نے کہا کہ اس کانفرنس میں بعض جماعتوں نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور بقول ان کے اسی لئے آپریشن کی حمایت کے الفاظ قرارداد کے متن میں موجود نہیں ہیں۔

"اس قرارداد میں آپریشن کا کوئی ایسا ذکر آپ کو نہیں ملے گا کہ اس آپریشن کی سب نے حمایت کی ہے۔ البتہ ہم نے یہ ضرور کہا ہے کہ قانون اور آئین کے تحت حکومت کی رٹ ضرور بحال ہونا چاہئے۔"

Pakistan schwere Gefechte Armee gegenTaliban

وادی سوات کو جانے والی ایک سڑک پر حفاظتی فرائض انجام دینے والےپاکستانی فوجی

جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کے مطابق اکثر جماعتوں نے اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مزید بہتر بنانے پر زور دیا: "یہ تمام جماعتوں کا مطالبہ تھا اور سب جماعتوں کا یہ موقف ہے کہ نقل مکانی کرنے والے تمام شہریوں کو جلد ازجلد واپس اپنے گھروں کو جانا چاہئے اور صورتحال کو ٹھیک ہونا چاہئے۔"

وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کی صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے موقع پر موجود پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ تب تک گذشتہ 24 گھنٹوں میں مالاکنڈ میں تین اہم طالبان کمانڈروں سمیت27 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا تھا۔

فوجی ترجمان کے بقول مٹہ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے لئے فضائیہ کی مدد بھی لی جا رہی ہے اور جلد ہی فوج اس علاقے کا کنٹرول سنبھال لے گی۔