1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماضی میں کوریا پر قبضہ: جاپانی وزیراعظم کی معذرت

جاپانی وزیراعظم ناؤتو کان نے کوریا سے سن 1910ء تا سن 1945ء جاپانی قبضے پر معافی مانگی ہے۔ اس معذرت کے بعد یہ آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں کہ کہیں جاپان کو کوریائی خطے کو معاوضہ ادا نہ کرنا پڑے؟

default

جاپانی وزیراعظم نے منگل کو اپنے بیان میں عالمی جنگ کے دوران جاپانی حکومت کی طرف سے کوریائی عوام کو ’زبردستی جنگ میں جھونکنے‘ پر بھی معذرت کی۔کان جاپان کے اہم تجارتی پارٹنر جنوبی کوریا سے تعلقات کو مستحکم بنانے کے خواہاں ہیں۔

کوریا پر جاپان کے قبضے دوران دوسری عالمی جنگ میں کوریائی نوجوانوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کرکے اگلے محاذ پر بھیجا جاتا تھا۔

Demonstration in Südkorea gegen Japan Weltkrieg

ایک کوریائی شہری دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے کردار کے حوالے سے مظاہرے کے دوران

کان نے اپنے بیان میں کہا کہ فریقین کو اس ’درد‘ کو بھولنے کی کوشش کرنی چاہئے تاہم اس تکلیف سے متاثر ہونے والے افراد کے لئے شاید یہ آسان نہ ہو۔’’میں ایک مرتبہ پھر اپنے دل کی گہرائی سے کوریا پر جاپانی قبضے کے دوران ہونے والی زیادتیوں، نقصانات اور پریشانیوں کے لئے متاثرین سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘

29 اگست کو کوریائی خطے پر جاپانی قبضے کے خاتمے کے سو برس مکمل ہونے والے ہیں۔ اس حوالے سے صد سالہ تقریبات بھی منعقد ہو ں گی۔

جاپان اس سے قبل بھی جنگی دور میں کئے گئے اقدامات پر معافی مانگ چکا ہے تاہم دونوں ممالک کے تعلقات میں اس دور کی تلخ یادیں ابھی تک دیکھی جا سکتی ہیں۔ جنوبی کوریا کو جاپانی سیاستدانوں کے بیانات اور سکول کے نصاب میں اس دور کی منظر کشی پر شدید اعتراضات ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ شاید یہی وجوہات ہیں کہ اس دور کے المناک واقعات ابھی تک کوریائی عوام کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔

Koreaner in Japan 1

جاپان نے کوریائی خطے کو ایک عرصے تک اپنے زیرقبضہ رکھا تھا

اس سے قبل سن 1995ء میں جاپانی وزیراعظم مسٹر مُرایاما نے دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے پچاس برس مکمل ہونے پر ایشیائی ممالک کے نام اپنے ایک بیان میں معافی مانگی تھی۔

جاپان کے موجودہ وزیراعظم کان کے بیان پر حکمران اور حزب اختلاف کے سیاستدانوں کو تحفظات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ غالباً اس معذرت کے بعد جاپان کو اس دور کے متاثرین کو مزید زرتلافی دینا پڑے گا۔ تاہم جاپانی وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ زرتلافی جاپان اور کوریا کے درمیان سن 1965ء میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہی ادا کیا جائے گا۔ 45 برس قبل طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ہی فریقین کے درمیان سفارتی تعلقات استوار ہوئے تھے۔

ٹوکیو اور سیئول کے درمیان تعلقات میں کشیدگی جاپان پر سن 2001ء سے سن 2006ء تک حکومت کرنے والے وزیراعظم کے دور میں پیدا ہوئی تھی۔ سابق وزیر اعظم مسٹر کوئزومی نے ماضی میں جاپانی عسکری طاقت کی علامت سمجھے جانے والے یاشوکونی کی قبر کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا۔ تاہم بعد کے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

رپورٹ: عاطف توقیر/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM

ویب لنکس