1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماسکو میٹرو حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہلاک: روسی حکام

روس کے سکیورٹی حکام نے اعلان کیا ہے کہ داغستان میں ایک جھڑپ کے دوران سرکاری افواج نے ایک سرگرم انتہاپسند لیڈر کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ حکام کے یقین ہے کہ وہ ماسکو میٹرو پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

default

ماسکو میں زیر زمین ریلوے سسٹم پر حملے میں چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے

اس سال روسی دارالحکومت ماسکو میں زیر زمین چلنے والی ریل گاڑیوں یا عرف عام میں میٹرو پر خود کش حملوں کے منصوبہ ساز ماگو میدالی واگا بوف کو قفقاذ علاقے میں گنیب نامی ایک گاؤں میں مختصر سی جھڑپ میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ گنیب نامی گاؤں داغستان کے پہاڑوں میں مرکزی شہر ماکھاچ کلاہ کے جنوب مغرب میں ہے۔ سکیورٹی حکام کوگاؤں کے ایک گھر میں عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ اس جھڑپ میں واگا بوف کے ہمراہ چار دوسرے عسکریت پسندوں کو بھی ہلاک کردینے کا دعوی کیا گیا ہے۔

ماسکو میٹرو میں دو خود کش بمباروں میں سے ایک واگا بوف کی بیوی ’’شاری پووا‘‘ بتائی جاتی تھی۔ اس کے ہمراہ ایک دوسری خاتون جنت عبدالرحمٰنووا نے بھی خود کو بارود سے اڑا دیا تھا۔ اس مناسبت سے ماگو میدالی واگا بوف کے والد کا زور دار تردیدی بیان بھی روسی اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ البتہ روسی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے واگا بوف کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔

NO FLASH Terroranschläge in Moskauer Metro

ماسکو میٹرو میں دو خود کش بمباروں میں سے ایک واگا بوف کی بیوی ’’شاری پووا‘‘ بتائی جاتی تھی

روس کی انسداد دہشت گردی کی کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ واگا بوف ماسکو میٹرو پر خودکش حملوں کا ایک فعال کردار تھا اورعسکریت پسندوں کوبھرتی کرنے میں بھی مصروف تھا۔ کمیٹی کے مطابق وہ نوجوانوں کو خود کش بمبار بننے کی تربیت بھی دیتا تھا۔ کمیٹی کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ وہ روس کے شمالی قفقاذ میں جاری عسکریت پسند تحریک کا دوسرا بڑا لیڈرتھا۔ اس سارے خطے میں انتہاپسند تحریک کا سربراہ ڈوکو عمراؤف ہے۔

کمیٹی کے بیان میں ماگو میدالی واگا بوف کی لاش کی تصدیق کا بھی حوالے دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے عسکریت پسند لیڈر کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔ اس بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والا لیڈر روسی ریلوے نظام اور سکیورٹی فورسز کے مراکزکو مستقبل میں نشانہ بنانے کا پلان کئے ہوئے تھا۔

کمیٹی کے مطابق واگا بوف نے عسکریت پسندی کی تربیت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں واقع ایک کیمپ سے حاصل کی تھی اور اس کے بین الاقوامی دہشت پسندانہ گروہوں کے ساتھ فعال رابطے تھے۔ اس سے پہلے بھی داغستانی عسکریت پسندوں کو روسی سکیورٹی فورسز نے ہلاک کرنے کی کوششیں کی تھیں، لیکن وہ ناکام رہی تھیں۔ ادھرشورش زدہ خطے چیچنیا میں بھی ایک اہم عسکریت پسند لیڈر خامزت شامیلی کو ہلاک کرنے بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ شامیلی خود کو امیر گروزنی بھی کہتا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس