1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماسکو دہشت گردی:روسی شبہات اور امریکی تعاون

بین الاقوامی برادری نے ماسکو خودکش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے روسی حکومت اور عوام سے یکجہتی ظاہر کی ہے جبکہ روسی حکام شمالی قفقاذ اور پاکستانی قبائلی علاقے کے شدت پسندوں پر واقعے میں ملوث ہونے کا شبہ کررہے ہیں۔

default

روسی حکام کے مطابق پیرکو ماسکو میں دو مبینہ خواتین خودکش بمباروں نے دو مختلف زیر زمین ریلوے اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 38 ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ کینیڈا میں صحافیوں سے بات چیت میں روسی وزیر خارجہ سیرگئی لیو روف نے کہا کہ بیرونی عوامل کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بقول سب جانتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع قبائلی علاقوں میں بین الاقوامی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی جاتی رہی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائیوں میں روس کو تعاون کی پیش کش کی ہے۔ اوباما نے اپنے روسی ہم منصب دیمتری میدویدیف کو ٹیلی فون کرکے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ امریکی عوام دکھ کی اس گھڑی میں روسی عوام کے ساتھ ہیں۔ امریکی صدر نے واقعے کو مشتعل شدت پسندوں کی انسانیت مخالف کارروائی قرار دیا۔

Russland Zahlreiche Tote bei U-Bahn-Explosionen in Moskau Dmitry Medwedew‎ Flash-Galerie

روسی صدر، ایک میٹنگ کے دوران، ماسکو دہشت گردی میں ہلاک ہونے والوں کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کئے ہوئے

دیگر مغربی ممالک نے بھی شدت پسندی کے خلاف روس کو تعاون فراہم کرنے کی یقینی دہانی کرائی۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، یورپی اتحاد کے صدر ہیرمن فان رومپوئے، جرمن چانسلر انگیلا میرکل، فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی ، برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، چینی صدر ہوجن تاؤ اور فلسطینی صدر محمود عباس سمیت متعدد نے واقعے کی مذمت کی۔

سارکوزی کے بقول امریکہ پر کئے گئے 11 ستمبر کے حملوں اور روس میں ہوئے حالیہ حملوں میں کوئی فرق نہیں۔

روسی سلامتی کے اداروں کے مطابق دارالحکومت میں کئے گئے ان حملوں میں شورش زدہ شمالی قفقاذ کے عسکریت پسند ملوث ہوسکتے ہیں۔ خفیہ ادارے ایف ایس بی نے چیچنیا اور انگوشیتیا کے مزاحمتی گروہ کی جانب اشارہ کیا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوتن کے بقول ملوث افراد کو ’تباہ‘ کردیا جائے گا۔ پوتن چیچن باغیوں کے خلاف عسکری کارروائیوں میں شدت لانے اور دہشت گردانہ کارروائیوں پر قابو پانے کے حوالے سے خاصے مشہور ہوئے تھے۔

Russland Zahlreiche Tote bei U-Bahn-Explosionen in Moskau‎ Flash-Galerie

دھماکے کے ایک مقام پر سکیورٹی اہلکار چوکس

یاد رہے کہ روسی دارالحکومت ماسکو سے سینٹ پیٹرزبرگ شہر جانے والی ایک ریل گاڑی کو گزشتہ سال نومبر میں ایک بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 26 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چیچنیا میں سرگرم ’مجاہدین کوہ قاف‘ نامی تنظیم نے مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔ چیچن باغیوں نے کچھ عرصہ قبل روسی معیشت کو نشانہ بنانے کے لئے اسی نوعیت کے حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔

امکان ہے کہ موجودہ صدر میدویدیف پر دباؤ بڑھے کہ وہ تشدد کی لہر کی مبینہ وجوہات یعنی بدعنوانی اور غربت پر توجہ کے بجائے طاقت کے استعمال کی پالیسی اختیار کریں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس خطے میں تحریک کو دبانے کے لئے طاقت کے استعمال نے مزاحمتی تحریک کو مزید جارحانہ کردیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت : عابد حسین

DW.COM