1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماسکوکے ہوائی اڈے پربم حملہ،سکیورٹی لیول میں اضافہ

روسی دارالحکومت ماسکو کے مصروف ترین ہوائی اڈے پر ایک مبینہ خود کش حملے میں کم ازکم 35 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ روسی صدر دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ اس حملے کےذمہ دار افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔

default

ماسکو کے مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈے Domodedovo کے ایک ہال میں یہ دھماکہ پیر کے روز عالمی وقت کے مطابق بعد دوپہر ڈیڑھ بجے ہوا۔ روسی حکام نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے جبکہ صدر میدویدیف کے بقول اس حملے کے پیچھے جن شر پسندوں کا ہاتھ ہے، انہیں ہر صورت تلاش کر لیا جائے گا۔ اس بم دھماکے کے بعد روسی صدر نے ماسکو میں عمومی سکیورٹی لیول میں اضافہ کرتے ہوئے اعلیٰ ترین اہلکاروں کی ایک ہنگامی میٹنگ بھی طلب کر لی۔

اس میٹنگ کے بعد اپنے نشریاتی خطاب میں روسی صدر نے کہا، ’ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ اس مخصوص صورتحال میں تمام ہوائی اڈوں اور عوامی آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والے دیگر تمام اہم مقامات پر سکیورٹی بڑھائی جا رہی ہے۔

Domodedowo Moskau Flughafen NO FLASH

Domodedovo ماسکو کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے

کریملن حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ صدر میدویدیف نے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے اپنا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کر دیا ہے۔ انہیں اس سالانہ فورم میں افتتاحی تقریر کرنا تھی اور پروگرام کے مطابق انہوں نے منگل کو داووس کے لیے روانہ ہونا تھا۔

Domodedovo کا ہوائی اڈہ ماسکو شہر کے مرکز سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ ہوائی اڈہ سیاحوں اور غیر ملکی کاروباری افراد کے لیے بہت پر کشش خیال کیا جاتا ہے۔

ابتدائی میڈیا رپورٹوں کے مطابق دھماکے کے فوری بعد ہی ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔

خبر رساں ادارے انٹرفیکس نے روسی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں تین افراد کی تلاش جاری ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM