1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مارینا گلبہاری، شہرت کی بلندیوں سے گمنامی کی زندگی تک

افغان فلم اسٹار مارینا گلبہاری کو فلم ’اسامہ‘ سے بین الاقوامی شہرت ملی۔ گزشتہ برس جب گلبہاری کی حجاب کے بغیر ایک تصویر منظر عام پر آئی تو اسے جان کی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں جس کے بعد اسے ملک چھوڑنا پڑ گیا۔

چوبیس سالہ مارینا گلبہاری اور اس کے خاوند نوراللہ عزیزی نے فرانس میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے اور وہ اب پیرس سے نوّے کلومیٹر دور تارکین وطن کے ایک کیمپ میں زندگی گزار رہے ہیں۔

جرمنی نے 2016ء میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

گلبہاری کبھی کابل کی سڑکوں پر اخبار بیچا کرتی تھی۔ دس برس کی عمر میں اس کی زندگی کا رخ اس وقت تبدیل ہو گیا جب ’اسامہ‘ فلم کے ڈائریکٹر نے 2001ء میں اسے بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم میں ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا جو طالبان کے دور اقتدار میں لڑکے کا روپ دھار لیتی ہے تاکہ وہ آزادی کے ساتھ کابل کی سڑکوں پر گھوم پھر سکے۔

اس فلم کو گولڈن گلوب ایوارڈ بھی ملا اور بین الاقوامی سطح پر شہرت ملنے کے علاوہ گلبہاری افغانستان میں بھی ہیروئین کے طور پر جانی جانے لگی۔ لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک اور موڑ آ گیا۔ اکتوبر 2015ء میں وہ جنوبی کوریا میں ایک فلم فیسٹول میں شریک تھی جس دوران گلبہاری کی ایک ایسی تصویر منطر عام پر آئی جس میں وہ بے پردہ تھی۔

یہ تصویر سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہوئی اور رجعت پسند افغان طبقے کو ناراض کرنے کا سبب بن گئی۔ گلبہاری اور اس کے اہل خانہ کو جان کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ گلبہاری کے آبائی گاؤں کے مولوی صاحب نے کہا کہ اسے گھر واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عزیزی کا کہنا ہے کہ اس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ اگر وہ واپس گئی تو اسے جان سے مار دیا جائے گا۔ چند ماہ قبل وہ اپنے خاوند کے ہمراہ پیرس میں ایک فلم فیسٹول میں شرکت کے لیے آئی جس کے بعد اس کے خاندان والوں نے اسے کہا کہ وہ وطن واپس نہ آئے۔

Afghanistan Cross Dressing Film Still Osama

فلم اسامہ نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا تھا جو لڑکے کا روپ دھار لیتی ہے

گلبہاری کے خاوند نور اللہ عزیزی نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم نے یہاں رکنے کے بارے میں سوچا تک نہ تھا۔ ہم لوگ ساتھ بھی کچھ نہیں لے کر آئے تھے۔‘‘ لیکن ان حالات میں وطن واپسی خود کشی کے مترادف تھی اس لیے دونوں نے فرانس میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے درخواست دے دی اور اب وہ دونوں پیرس سے نوّے کلو میٹر دور درو نامی فرانسیسی شہر میں قائم پناہ گزینوں کے ایک مرکز میں رہ رہے ہیں۔

’اسامہ‘ فلم کے ہدایت کار صدیق برمک بھی چند برس پہلے افغانستان چھوڑ کر فرانس منتقل ہو گئے تھے۔ برمک کا کہنا تھا، ’’افغانستان میں اگر آپ اداکار یا اداکارہ کے طور پر کام کرتے ہیں تو لوگ آپ پر کافر ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ اداکاروں کی زندگی افغانستان میں محفوظ نہیں ہے۔‘‘

گلبہاری کی طرح عزیزی بھی افغان فلموں میں اداکاری کرتے تھے۔ فرانس میں بھی وہ دونوں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ عزیزی کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی کیمپ سے نکلتا ہے تو اپنی بیوی کو کمرے میں بند کر دیتا ہے تاکہ کوئی اس کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گلبہاری پر حملہ نہ کر دے۔

مارینا گلبہاری جب باہر بھی نکلتی ہے تو اپنی شناخت چھپانے کے لیے نقاب اوڑھ لیتی ہے جو اس لیے بھی ایک المیہ ہے کہ نقاب نہ کرنے کی وجہ سے اسے ہجرت کرنا پڑی۔

شہرت کی بلندیوں سے گمنامی کی زندگی گزارنے تک کے سفر نے اسے اتنا مایوس کر دیا کہ اس نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔ فلم سے دوری نے گلبہاری کو ذہنی مریضہ بنا دیا ہے۔ اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے گلبہاری کا کہنا تھا، ’’سنیما میری زندگی ہے۔ فلم کے ذریعے میں اپنے لوگوں کے بارے میں سب کچھ کہہ سکتی ہوں۔‘‘

اپنی اس نئی زندگی کے بارے میں یہ جوڑا خوش نہیں ہے۔ گلبہاری کا کہنا تھا، ’’پہلے میں مستقبل کے خواب دیکھا کرتی تھی، اب میں صرف ماضی کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔‘‘

آسٹریا نے پناہ کے سخت ترین قوانین متعارف کرادیے

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

DW.COM