1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مارک ٹوین کا ایک چیپٹر ڈھائی لاکھ ڈالر میں فروخت

مشہور امریکی مزاح نگار مارک ٹوین کی سوانح حیات کے کبھی شائع نہ ہونے والے ایک حصے یا باب کو نیو یارک میں ہونے والے ایک آکشن میں تقریباً ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر کی خطیر رقم کے عوض خرید لیا گیا۔

default

نامور امریکی مزاح نگار مارک ٹوین

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مارک ٹوین نے 65 صفحات پر مشتمل یہ ’فیملی سکیچ‘ یا چیپٹر اپنی 24 سالہ بیٹی سوزی کی موت کے غم میں لکھا تھا۔ ٹوین کی بیٹی سن 1896ء میں انتقال کر گئی تھیں۔ بیٹی کی موت کے صدمے نے مارک ٹوین کو مایوسی سے نڈھال کر دیا تھا۔ جواں سالہ بیٹی کی موت کے کچھ سال بعد ہی سن 1904ء میں مارک ٹوین کی اہلیہ اولیویا بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، تو یہ معروف امریکی طنز نگار ایک عرصے تک بہت دل شکستہ ہو گئے تھے۔

مارک ٹوین کا فیملی بحران یہیں اختتام پذیر نہیں ہوا۔ ٹوین پر یکے بعد دیگرے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹتے ہی چلے گئے۔ سن 1909ء میں عالمی شہرت کے حامل اس ناول نگار کی دوسری بیٹی بھی محض 29 برس کی عمر میں چل بسی اور پھر اس صدمے کے ایک سال بعد ہی یعنی سن 1910ء میں خود یہ مزاح نگار بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

Hörbuchcover Tom Sawyer & Huckleberry Finn von Mark Twain

’’دی ایڈوینچرز آف ہکل بیری فن‘ اور ’دی ایڈوینچرز آف ٹام سایر‘ جیسے ناول آج بھی ادب کے شوقین افراد کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں

اس معروف طنز نگار کا اصل نام سیموئل لینگہارن کلیمنز تھا لیکن ادب کی دنیا میں وہ مارک ٹوین کے نام سے ہی مشہور ہوئے۔ سیموئل لینگہارن کلیمنز کو زیادہ تر ان کی ناول نگاری اور بے باک مزاح کے لئے جانا پہچانا جاتا ہے۔ مارک ٹوین کے لکھے ہوئے’’دی ایڈوینچرز آف ہکل بیری فن‘ اور ’دی ایڈوینچرز آف ٹام سایر‘ جیسے ناول آج بھی ادب کے شوقین افراد کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

Hochrad von Mark Twain

مارک ٹوین کی سائیکل ایک میوزیم میں

کہا جا رہا ہے کہ نیو یارک میں نیلامی کے دوران خریدا گیا مارک ٹوین کی سوانح عمری کا یہ غیر شائع شدہ چیپٹر اس طنز نگار کے بچپن اور اس کے خاندان کی یادوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس بولی میں ایسی بہت سی تصاویر بھی خریدی گئیں، جن پر ٹوین کے دستخط موجود ہیں۔

مارک ٹوین کا جنم تیس نومبر سن 1835ء میں فلوریڈا میں ہوا تھا۔ جب سیم یعنی ٹوین محض گیارہ سال کے تھے تو ان کے والد کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا۔ والد کے انتقال کے بعد سیم کو مجبوراً سکول چھوڑنا پڑا تھا اور پھر انہوں نے کم عمری میں ہی ایک اخباری دفتر میں کام سیکھنا شروع کر دیا تھا۔ وہاں مارک ٹوین کو مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، تبصروں، جائزوں اور رپورٹوں کو پڑھنے کا موقع بھی ملنے لگا۔

تب کسے خبر تھی کہ پانچویں جماعت میں ہی سکول کو خیر باد کہنے والا سیم بعد ازاں ادب کی دنیا میں بہت مقبول مزاح نگار مارک ٹوین کے نام سے پہچانا جائے گا!

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM