1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مارکسی کمیونسٹ پارٹی(ماؤنواز) غیرقانونی قرار

مرکزی حکومت کے بعد مغربی بنگال کی ریاستی حکومت نے بھی مارکسی کمیونسٹ پارٹی(ماؤنواز) کو غیرقانونی تنظیم قرار دے دیا ہے۔

default

پی چدمبرم نے مغربی بنگال کی ریاستی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بھی ماؤنواز کمیونسٹ پارٹی کو کالعدم قرار دے دے

پانچ ریاستوں میں 48 گھنٹے کے بند کے دوران ماؤنوا ز انتہاپسندوں نے کئی مقامات پر بم دھماکے کئے اور فائرنگ کی جس میں کم از کم ایک افسر سمیت دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے اور ایک کی موت ہوگئی۔ پچاس ماؤنوازوں نے بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے5 کلومیٹر دور لکھی سرائے میں ایک عدالت کے احاطے میں حملہ کرکے ڈیولپمنٹ افسر اور دو پولیس والوں کو زخمی کرنے کے بعد اپنے ایک ساتھی کو چھڑا کر لے گئے۔ انہوں نے پولیس والوں سے ان کی رائفل اور کاربائن بھی چھین لی۔ اس حملے میں ایک ہوم گارڈ مارا گیا۔ بہار کے ہی اورنگ آباد ضلع کے جھکانیا گاؤں میں انہوں نے ایک کمیونٹی سینٹر کو ڈائنامائٹ سے اڑا دیا۔ جھارکھنڈ کے میدنی نگر میں ماؤنوازوں نے ایک پنچایت گھر کو تباہ کر دیا۔ جب کہ بہار کے گیا ضلع میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو اڑا دیا۔

اس دوران مغربی بنگال کے لال گڑھ علاقے میں صورت حال مزید سنگین ہوگئی ہے جہا ں ماؤ نواز باغیوں کے خلاف نیم فوجی دستوں کی کارروائی جاری ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے لال گڑھ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر نکتہ چینی کی ہے۔کمیشن نے کہا کہ اسے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ سیکورٹی فورسیز بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لئے مقامی لوگوں کو انسانی ڈھال کے طو ر پر استعمال کررہی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو وہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کرے گی۔

Unruhen in Indien

لال گڑھ کے علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہی ہے

دریں اثناء لشکر طیبہ اور ایل ٹی ٹی ای سمیت دیگر 34 تنظیموں کی طرح مارکسی کمیونسٹ پارٹی ماؤنواز کو بھی دہشت گرد تنظیم قراردئے جانے پربھارت میں زبردست بحث چھڑ گئی ہے۔ حکمراں کانگریس اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے بروقت قدم قرار دیا ہے لیکن بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا سیاسی مقابلہ کیاجانا چاہئے۔ کیوں کہ یہ دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ یہ گمراہ نوجوان ہیں جنہوں نے سماجی اور اقتصادی محرومیوں سے تنگ آکر ہتھیار اٹھالئے۔

مشہور تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسس میں سینئر ریسرچ اسکالر اور نکسلی امور کے ماہر اوم شنکر جھا نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اس مسئلے کو طاقت کے ذریعہ حل کرنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو مل جل کر حل کرنا چاہئے۔اوم شنکر جھا نے کہا کہ حالانکہ مرکزی حکومت اس مسئلے کے حل کے سلسلے میں مخلص نظر آتی ہے لیکن ریاستی حکومتوں کو بھی اس میں مکمل تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 1996 میں نکسل ازم پر ایک اسٹیٹس پیپر تیار کیا تھا جس میں اس مسئلے کے حل کے لئے مناسب تجاویز موجود ہیں اور ان پر بڑی حد تک عمل بھی ہورہا ہے۔

مرکزی حکومت کی طرف سے مارکسی کمیونسٹ پارٹی ماؤنواز کو غیرقانونی قراردئے جانے کے بعد آج مغربی بنگال حکومت نے بھی غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت اس پر پابندی عائدکردی۔ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پیر کے روز مارکسی کمیونسٹ پارٹی ماؤنواز کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے مغربی بنگال کے وزیر اعلی بدھا دیب بھٹاچاریہ کو اس تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ بھٹاچاریہ نے کہا کہ یہ پابندی پورے ملک کے لئے نافذہے اور تمام ریاستوں نے اسے تسلیم کرلیا ہے لیکن اسے کس طرح نافذ کیا جائے گا یہ ریاستی حکومت کا کام ہے۔

دریں ا ثناء ماؤنوازباغیوں نے کہا کہ وہ مسئلے کے حل کے لئے حکومت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ ماؤنوازوں کے ایک ترجمان گور چکروتی نے تاہم کہا کہ یہ بات چیت لال گڑھ سے سیکورٹی فورسیز کی واپسی اور غیر جانبدار تنظیموں کی ثالثی میں ہی ممکن ہے۔

رپورٹ : افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت : عاطف توقیر