1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مارچ سے سلامتی کے امور سنبھال لیں گے، صدر کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ مارچ میں سلامتی کی ذمہ داریاں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی افواج سے افغان سکیورٹی دستوں کو منتقل کرنے کے آغاز کا اعلان کردیں گے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی کے بقول افغانستان میں نئے سال ’نو روز‘، کے موقع پر وہ یہ اعلان کریں گے۔ وسطی ایشیا میں اس نئے سال کا آغاز 21 مارچ کو ہوگا۔

افغان صدر نے جرمن شہرمیونخ میں منعقد ہو رہی عالمی سلامتی سے متعلق کانفرنس میں خطاب کے دوران کہا، ’ ہم افغان قیادت اور ٹرانزیشن کے عمل کی رہنمائی کے لیے پرعزم ہیں۔‘ صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ ٹرانزیشن یعنی سلامتی کی ذمہ داریوں کے انتقال کا یہ عمل مرحلہ وار ہوگا۔

Ein Soldat der ISAF in Nad Alis Front in Helmand Flash-Galerie

افغانستان میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجی متعین ہیں

شورش زدہ افغانستان میں امریکہ اوراس کے اتحادی ممالک کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ فوجی متعین ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی رکن ریاستوں سے ہے جبکہ کچھ فوجیوں کا تعلق نیٹو سے نہیں ہے۔

مغربی ممالک میں افغان مشن وقت کے ساتھ اپنی مقبولیت کھورہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی 2014ء کو فوجی انخلاء کی ڈیڈ لائن مقرر کرکے مستقبل میں کابل حکومت کے ساتھ غیر فوجی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرچکے ہیں۔

Türkische Soldaten in Afghanistan

افغان صدر کابل میں ترک فوجی دستوں کا معائنہ کرتے ہوئے

افغان حکام ابتدائی طور پر لگ بھگ تین لاکھ نفوس پر مبنی فعال سکیورٹی فورس تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ملکی فوج اور پولیس کی تربیت کا کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت نے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس کے میزبان ملک جرمنی کے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے افغانستان میں نئے پارلیمان کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ جرمنی کے چار ہزار سے زائد فوجی شمالی افغانستان میں سلامتی کی ذمہ داریوں پر مامور ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM