1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مارٹن شلس کی جرمن سیاست میں واپسی کا فیصلہ

اہم یورپی سیاستدان شلس نے اعلان کیا ہے کہ وہ براعظمی سیاست کو خیرباد کہتے ہوئے واپس جرمن سیاسی میدان میں لوٹ رہے ہیں۔ وہ آج کل یورپی پارلیمنٹ کے سربراہ ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلس یورپی سیاسی منظر پر انتہائی احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے آج جمعرات، چوبیس نومبر کو اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمانی منصب سے اگلے برس سبکدوش ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق وہ اب اپنے ملک جرمنی کی سیاست میں عمل طور پر شرکت کے خواہاں ہیں۔

برسلز میں جرمن سیاستدان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیسری مدت کے لیے یورپی پارلیمنٹ کی صدارت کے امیدوار نہیں بنیں گے بلکہ اِس کی جگہ وہ جرمن پارلیمنٹ کے لیے میدان میں اتریں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی سیاسی جماعت انہیں پارلیمان کا رکن دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ جرمنی کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فالیا سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) کے امیدوار بنیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی پارلینٹ کی صدارت ایک بڑا اعزاز ہے اور مزید اس منصب پر فائز نہ رہنے کا فیصلہ بلاشبہ ایک مشکل امتحان تھا۔

یورپی پارلیمنٹ کی صدارت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جرمن سیاستدان کا کہنا تھا کہ  بطور صدر انہوں نے پارلیمنٹ کے وقار میں اضافہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس جدوجہد میں بھی مصروف رہے کہ یورپی سیاست میں شفافیت اور اعتماد کی فضا مزید نکھر کر سامنے آئے۔ وہ سن 2012 سے یورپی پارلیمنٹ کے صدر چلے آ رہے ہیں۔

Deutschland Martin Schulz Statement in Brüssel zu seinem Wechsel in die Bundespolitik (Reuters/Y. Herman)

یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلس یورپی سیاسی منظر پر انتہائی احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں

اپنے اس اعلان میں مارٹن شلس نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ چانسلر انگیلا میرکل کے مقابلے پر چانسلرشپ کے امیدوار بنیں گے۔ دوسری جانب اِس کی توقع کی جا رہی ہے کہ انہیں بائیں بازو کی جرمن سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی میں اہم اور کلیدی منصب سونپا جا سکتا ہے۔

جرمن سیاسی منظر کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مارٹن شلس کی واپسی ملکی سیاست میں انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی اور قوی امکان ہے کہ انہیں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت بھی سونپ دی جائے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پارٹی کے موجودہ صدر زیگمار گابریل خیال کیے جاتے ہیں، جو پارٹی میں خاصے غیرمقبول ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وہ عوامی حلقوں میں متاثر کن شخصیت نہیں ہیں۔

مارٹن شلس چانسلر میرکل کی کامیابی کی صورت میں اگلے وزیر خارجہ بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ موجودہ وزیر خارجہ  فرانک والٹر اشٹائن مائرکو ملک کا اگلا صدر بنایا جا رہا ہے۔