1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

جرمن پارلیمانی انتخابات

مارٹن شلس کا کرشمہ، ایس پی ڈی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے

سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے چانسلر کے عہدے کے امیدار مارٹن شلُس نے جرمن سیاست کا رنگ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ عام انتخابات سے قبل سوشل ڈیموکریٹک جماعت ’ایس پی ڈی‘ کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ٹھیک ایک ماہ قبل جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ’ایس پی ڈی‘ کی دنیا کچھ الگ دکھائی دیتی تھی۔ اِسے مرکزی دھارے سے کٹتی ہوئی ایک سیاسی پارٹصی خیال کیا جا رہا تھا۔ چوبیس جنوری کو ایس پی ڈی کے سربراہ زیگمار گابریئل نے مارٹن شلس کو ستمبر میں ہونے والے عام انتخابات میں چانسلر کے عہدے کے لیے امیدوار نامزد کیا۔ آج چوبیس فروری کو ایس پی ڈی جرمن سیاست کا رخ تبدیل کرتے ہوئے مقبولیت کے لحاظ سے یونین جماعتوں سے آگے نکل گئی ہے۔ یونین جماعتوں سے مراد چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور ان کی ہم خیال کرسچن سوشل یونین ہے۔

 ملکی نشریاتی ادارے ’ اے آر ڈی‘ کے ایک جائزے کے مطابق ’ایس پی ڈی‘ چار پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ عوامی مقبولیت کی شرح بتیس فیصد ہو پہنچ گئی ہے جبکہ یونین جماعتوں کی عوامی تائید تین پوائنٹس کی کمی کے ساتھ اکتیس فیصد ہے۔ اکتوبر 2006 ء کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سوشل ڈیموکریٹس چانسلر میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور ان کی ہم خیال کرسچن سوشل یونین سے آگے نکل گئی ہے۔

SPD-Kanzlerkandidat Martin Schulz (picture alliance/dpa/C. Charisius)

ایس پی ڈی کے لیڈر مارٹن شلس

اسی طرح کا ایک جائزہ پانچ جنوری کو بھی کرایا گیا تھا، جس میں سی  ڈی یو کی مقبولیت سینتیس جبکہ ایس پی ڈی کی بیس فیصد تھی۔ ماحول دوست گرین پارٹی کی مقبولیت بدستور آٹھ فیصد ہے۔ ڈی لنکے کی عوامی مقبولیت ایک فیصد کم ہو کر سات فیصد ہو گئی ہے۔

مارٹن شلس کا کہنا ہے کہ اگر ایس پی ڈی اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تو بے روزگاری الاؤنس کی مدت میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ روزگار کی منڈی میں اصلاحات لانے کے اُس منصوبے ’ایجنڈا 2010ء‘ کے بھی حامی ہیں، جو سابق چانسلر گیرہارڈ شروئیڈر نے متعارف کرایا تھا۔ تاہم وہ موجودہ حالات کے تناظر میں اس میں کچھ ترامیم کرنا چاہتے ہیں۔