1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مارشل لاء کی دعوت دینا ملک سے بغاوت، مولانا فضل الرحمان

جمیعت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تصویر والے بینرز لگا کر فوج کو مارشل لاء کی دعوت دینا آئین کی رو سے ملک سے بغاوت ہے۔

بدھ کے روز لاہور میں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طالبان تو باغی ہیں لیکن جو لوگ مارشل لاء کے بلاوے دے کر باغیانہ حرکتیں کر رہے ہیں وہ ملک کو کیا دینا چاہتے ہیں، ’’ایسے لوگ جو آئین اور جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور فوج کو ترغیب دے رہے ہیں، وہ خود فوج اور راحیل شریف کی حیثیت کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ وہ اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے ملک کو بے یقینی کی کیفیت سے بھی دوچار کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔‘‘

پاکستان کے کئی بڑے شہروں میں پاک فوج کے سربراہ کی تصویر کے ساتھ ایک غیر معروف تنظیم ’موو آن پاکستان‘ کی طرف سے ایسے بینرز لگائے گئے ہیں، جن پر ’جانے کی باتیں ہوئی پرانی---- خدا کے لیے اب آ جاو‘ کے الفاظ تحریر ہیں۔ یاد رہے پاکستان میں آئین کی رو سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزا موت ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی ایک عدالت میں سابق پرویز مشرف کے خلاف پہلے ہی ایک مقدمہ چل رہا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آج کل مارشل لاء کی باتیں ہو رہی ہیں، کیا آپ بھی بوٹوں کی چاپ سن رہے ہیں اور آرمی چیف کی تصویر والے متنازعہ بینرز کے حوالے سے آپ کا کیا موقف ہے تو مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا، ’’جب سے جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالی ہے اور انہوں نے ملک کو امن دینے میں جو رول ادا کیا ہے، اس سے یقینی طور پر ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ جو بینرز والی حرکتیں ہو رہی ہیں، خدا جانے کس نے کی ہیں، یہ صرف آرمی چیف کی پوزیشن کو متنازعہ بنانے اور ان کی مقبولیت کے گراف کو نیچے لانے کے لیے ہے۔‘‘

ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس بات کا پتا لگایا جانا چاہیے کہ یہ کون لوگ ہیں، جو یہ حرکتیں کر رہے ہیں۔ ان کے بقول انہیں سو فیصد یقین ہے کہ اس میں فوج شامل نہیں ہو سکتی۔ جب ایک صحافی نے ان سے یہ سوال کیا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں کرپشن ہوئی ہے اور یہاں دولت لوٹی گئی ہے، اگر اپوزیشن حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف سڑکوں پر آتی ہے تو کیا وہ حزب اختلاف کا ساتھ دیں گے۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے الٹا رپورٹر سے استفسار کیا کہ اس ملک میں کس نے کرپشن کی ہے کیا اس کا فیصلہ میں نے اور آپ نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ، نیب اور عدالتوں کا بھی کوئی رول ہے؟ کیا سیاست دانوں نے سڑکوں پر کھڑے ہو کر خود احتساب کرنا ہے۔ یا اپنے اداروں پر اعتماد کرنا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت اور فوج کی جانب سے متنازعہ بینرز اور پورسٹرز سے لاتعلقی کا اظہار کیا جا چکا ہے، ایسے میں ممتاز قانون دان چوہدری اعتزاز احسن نے ’موو آن پاکستان‘ کے سربراہ کی گرفتاری کی تجویز پیش کی ہے تاکہ اس کے عزائم کا پتا چلایا جا سکے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس ایک عالمی سازش ہے، ان کے مطابق اس معاملے پر دنیا تو خاموش ہے لیکن ہمارے ملک میں جس انداز سے گفتگو کی جا رہی ہے اس کے پیش نظر میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ماضی میں پاکستان میں جمہوریت کی بقاء کے لیے جو کوششیں کی گئی تھیں اس کے ثمرات ضائع ہو جائیں گے۔ ’’ہمیں کچھ معاملات میں وسیع ظرف کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جو لوگ آج تک جمہوریت کے دشمن تھے اور جن غیر جمہوری قوتوں کو پیچھے دھکیل اجاتا رہا ہے۔ اب ان کی کمر مضبوط کرنا جمہوریت کی خدمت نہیں ہو گی‘‘۔

Pro Armee Banner Pakistan

مولانا فضل الرحمان کے بقول آرمی چیف کی تصویر والے بینرز لگا کر فوج کو مارشل لاء کی دعوت دینا آئین کی رو سے ملک سے بغاوت ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے مابین دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد وزیر اعظم کے آفس کی طرف سے اس ملاقات کے حوالے سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں متنازعہ بینرزکی کوئی بات نہیں کی گئی بلکہ اس میں صرف کشمیر کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کا تذکرہ کیا گیا۔

تاہم بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی میڈیا ٹاک کا وقت اور جگہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے اتحادی مولانا فضل الرحمان نے اس ملاقات کے فوری بعد متنازعہ بینرز کے حوالے سے تفصیلی بات کرکے نواز شریف کا پیغام وہاں پہنچا دیا ہے، جہاں اس پیغام کو پہنچانے کی ضرورت تھی۔ جاتی عمرہ میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وفاقی وزیر ہاوسنگ اکرم درانی بھی شریک تھے۔