1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مارشل لاء کی حمایت والے بینرز پر ’سازشی نظریات‘

مارشل لاء کی دعوت دینے والے بینرز پر عوامی بحث ایک نیا رخ اختیار کر گئی ہے۔ آرمی کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ان بینرز سے لا تعلقی کا اظہار کردیا ہے جبکہ کئی گھنٹے گرزنے کے باوجود حکومت نے ان بینرز کو ابھی تک ہٹا نہیں سکی ہے۔

مارشل لاء کی دعوت دینے والے بینرز کے آویزاں ہونے پر کئی سازشی نظریات جنم لے چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے بدھ کے دن حکومت پر یہ الزام لگا دیا کہ اس نے خود یہ بینرز لگوائے ہیں جب کہ مسلم لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بھی اس مسئلے پر بات چیت ہوئی ہے۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ بھی اس مسئلے پر زور وشور سے بحث کر رہے ہیں جب کہ سوشل میڈیا پر بھی ان بینرز کا بہت چرچا ہے۔ ایک ٹوئٹر صارف نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ بینرز لگانے والوں کو خفیہ قوتوں کی مدد حاصل ہے۔

ایک صارف نے ایک سرکاری نمبر پلیٹ کی گاڑی کی تصویر ٹوئٹر پر لگائی ہے، جس میں راحیل شریف کے پوسٹرز رکھے ہیں اور اس نے لکھا ہے کہ بینرز لگانے والوں میں مشرف اور طاہر القادری کے حامی بھی شامل ہیں۔ ایک اور صارف نے لکھا ’کچھ ہونے والا ہے، شائد ٹیکنو کریٹس کی حکومت آجائے‘۔

ان بینرز سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بات چیت کرتے ہوئے علامہ قبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس طرح کی خبریں آرہی ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ آرمی کی انجینئرنگ کور سے کسی جنرل کو آرمی چیف کے طور پر لگانا چاہتے ہیں، جس پر اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں اور یہ بینرز حکومت پر اگلے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے دباو ڈالنے کی ایک کوشش ہے، جس سے خود آرمی کو بھی نقصان ہو رہا ہے کیونکہ سیاسی محاذ پر کوئی بھی ان بینرز کے مندرجات سے متفق نہیں ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ملک میں مارشل لاء لگے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر امان نے کہا، ’’حکومت کی خراب گورننس کی وجہ سے اس میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ان بینرز کو ہٹائے یا جنہوں نے یہ لگائیں ہیں ان کے خلاف وہ کوئی کارروائی کرے۔ حکومت کو اندازہ ہے کہ بینرز لگانے والوں کے پیچھے کون ہیں۔ نواز حکومت سمجھتی ہے کہ اگر بینرز لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید تناو پیدا ہوگا، جس سے حکومت کو نقصان ہوگا۔ حکومت پہلے ہی بہت سے مسائل میں گھری ہے۔ وہ مزید کوئی اور فرنٹ کھولنا نہیں چاہتی۔‘‘

آرمی چیف کے تقرر کے سوال پر ڈاکٹر امان کا کہنا تھا، ’’وزیرِ اعظم کے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو ایک ایسا قانون بنانا چاہیے جس کے تحت جو سینیئر جرنیل ہو وہ خود بخود آرمی چیف بن جائے اور اپنی مدت ختم ہونے پر ریٹائرڈ ہوجائے۔ حکومت کو اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے۔ ماضی میں بھٹو صاحب نے اور میاں صاحب نے بھی سینیئرجرنیلوں کو نظر انداز کیا اور اس کا نتیجہ سب نے دیکھا۔ سپریم کورٹ نے بھی تو ایک طریقہ کار بنا لیا ہے، جہاں چند سالوں میں سینیئر ترین جج ادارے کے سربراہ بنے۔ تو ایسا کوئی طریقہ آرمی میں کیوں متعارف نہیں کرایا جا سکتا۔‘‘

اسی مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کی رہنما اور رکنِ پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ ان بینرز لگانے والوں کے پیچے کچھ قوتیں ہیں۔ مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا کہ یہ نظر آرہا ہے۔ لیکن ہم نے بینرز لگانے والوں کو اس لیے گرفتار نہیں کیا کیونکہ ان گرفتاریوں پر ہمارے مخالفین کہتے کہ حکومت ڈر گئی ہے۔ بینرز کو ہٹانے کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہے اور اُس کے تحت اُن کو ہٹا دیا جائے گا۔‘‘

Pro Armee Banner Pakistan

مارشل لاء کی دعوت دینے والے بینرز پر عوامی بحث ایک نیا رخ اختیار کر گئی ہے

ایک سوال کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا، ’’ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہم اپنی مدت پوری کریں گے۔ اب ہمارے ادارے بھی میچور ہو رہے ہیں اور ان کہ یہ بات معلوم ہے کہ کرڑوں عوام کے ووٹ لینے والے وزیرِ اعظم اس طرح کسی کے بینرز لگانے سے ہٹائے نہیں جاتے۔

آرمی کے ساتھ نون لیگ کے تعلقات اچھے ہیں لیکن ان کا سوچنے کا اپنا طریقہ کار ہیں۔ وہ کوئی ہماری پارٹی کے لوگ تو نہیں۔ ملک میں ضربِ عضب چل رہا ہے اور ایسی صورت میں پاکستان حکومت اور فوج کے درمیان کشیدہ تعلقات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دونوں مل کر ملک کو دہشت گردی کی دلدل سے نکالنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔‘‘