1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مارشل لاء کا مطالبہ‘ سازش یا خواہش؟

پاکستان کے انیس شہروں میں بیک وقت کئی بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں، جس میں آرمی چیف سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ نہ لیں اور ملک میں مارشل لاء لگا دیں۔ ان مطالبات نے کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کو حیران کردیا ہے۔

ڈوئچے ویلے نے ان بینرز کو آویزاں کرنے والی سیاسی جماعت Move On کےمرکزی چیف آرگنائرز علی ہاشمی سے اس مہم کی وجوہات پوچھیں تو انہوں نے کہا کہ کا اس کا مرکزی نقطہ نواز حکومت کا خاتمہ ہے۔ علی ہاشمی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہاں ہم نے ہی ہزاروں کی تعداد میں بینرز ملک کے مختلف شہروں میں لگائے ہیں۔ ان بینرز کا مقصد یہ ہے کہ آرمی چیف راحیل شریف، جنہوں نے ملک میں بہت اچھے کام کیے ہیں، اب پاکستان میں مارشل لاء لگائیں اورایک ٹیکنو کریٹک حکومت قائم کریں، جو ملک میں کرپشن کے خلاف لڑے۔ تعلیم، صحت، دہشت گردی اور دوسرے تمام مسائل کو حل کرے۔ اس حکومت کو ختم کیا جائے کیونکہ نواز شریف آئین کی آرٹیکل 62 اور 63 پر نہیں اترتے۔ ملک چالیس سے زائد دن وزیرِاعظم کے بغیر چلتا رہا۔ آرمی نے جو اچھے کام کیے ہیں حکومت ان کو بھی ضائع کر رہی ہے۔ کراچی میں دہشت گردی پھر شروع ہوگئی ہے۔ تو ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگایا جائے۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کا مطالبہ غیر آئینی نہیں ہے تو علی ہاشمی نے جواب دیا، ’’جب چودہ انسانوں کو ماڈل ٹاون میں قتل کیا گیا تو آئین کہاں تھا؟ جب اچکزئی نے کے پی کو افغانستان کا حصہ قرار دیا تو آئین کہاں تھا؟ جب الطاف حسین نے را سے مدد کی بات کی تو آئین کہاں تھا ؟جب پانامہ لیکس میں حکمرانوں کی لوٹ مار کا انکشاف ہوا تو آئین کہاں تھا۔‘‘ ان کے بقول، ’’ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی کوئی حمایت حاصل نہیں ہیں۔ ہم یہ مطالبہ ملک کی بہتری کے لیے کر رہے ہیں۔ پہلے ہم نے فروری میں آرمی چیف سے ریٹائرڈنہ ہونے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب ہم مارشل لاء کے نفاذ اور ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم حکومت سے خوفزدہ ہیں اور نہ ہی ہم گرفتاریوں سے ڈرتے ہیں۔ جہاں جہاں پنجاب حکومت کی طاقت ہے اس نے ہمارے بینرز ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ ہم اپنی اگلی منصوبہ بندی کا جلد ہی اعلان کریں گے۔‘‘
مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’صرف حکومتی جماعت، سیاستداں اور سیاسی جماعتوں کا موقف ہی نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ہونی چاہیے بلکہ پاکستان کے عوام مارشل لاء اور غیر جمہوری حکومتوں کو دیکھ چکے ہیں اور ان کے نقصانات سے بھی آگاہ ہیں۔ انہوں نے مارشل لاء کو اور آمرانہ نظام کو مسترد کردیا ہے اور ملک میں جمہوری قوتوں کی حمایت کی ہے اور انہیں منتخب کیا ہے۔ تو یہ اٹل فیصلہ ہے کہ ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ ملک کی ترقی جمہوریت میں پنہاں ہے۔ جمہوری نظام کے علاوہ عوام کسی اور نظام کو نہیں چاہتے۔‘‘
انہوں نےمزید کہا، ’’ اگر کسی گروپ نے ایسے بینر ز آویزاں کیے ہیں جن میں مارشل لاء کا مطالبہ کیا گیا ہے تو سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی غیر مقبول سا گروپ ہے، جس کو لوگ جانتے تک بھی نہیں۔ ان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے۔ تو ہم ایسے لوگوں کو گرفتار کر کے ان کو کیوں اہم بنائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں تو ملک میں جمہوری دور ہے صرف لوگوں کو اپنی رائے کا اظہار کرنے پرگرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ میرے خیال میں اس گروپ کو اسٹیبلشمنٹ کی کوئی حمایت حاصل نہیں اور وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔‘‘
معروف سیاسی تجزیہ نگار ڈاکڑ مہدی حسن نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’مارشل لاء کا مطالبہ بنیادی طور پر اس شہرت و ساکھ کا نتیجہ ہے جو راحیل شریف نے حالیہ سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد حاصل کی۔ حکومت کی بد انتظامی نے لوگوں کو بڑا مایوس کیا ہے۔ حکومت کہیں نظر نہیں آتی۔ وزیرِ اعظم نے اچھا خاصا وقت ملک سے باہر گزارا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتی بد انتظامی کا حل آرمی کے پاس ہے۔ اسی لیے وہ اس طرح کے مطالبات کر رہے ہیں۔‘‘

اس بات چیت میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں شروع سے ہی یہ تصور ہے کہ آرمی کے پاس ملک کے تمام مسائل کا حل ہے۔ مہدی حسن کہتے ہیں کہ اسی لیے آرمی کو غیر ضروری طور پر زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اس تصور سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں عوام ہمشہ فوجی آمروں کے خلاف لڑے ہیں، جیلیں کاٹیں ہیں، نوکریاں گنوائی ہیں۔ ان کے بقول لیکن موجودہ حکومت کی بد انتظامی نے لوگوں کا مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایسے مطالبات کریں۔‘‘
وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ ایسا لگ رہا ہے کہ جمہوری نظام خطرات سے دوچار ہونے جارہا ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل احسان الحق نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قیام کا مطالبہ کردیا ہے۔ کچھ نئی بننے والی جماعتیں صدارتی نظام، مزید صوبوں کا قیام اور اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی لائن ہے۔ یہ بینرز بھی اُن کے ہی لوگوں نے لگائے ہیں۔ انیس شہروں میں بیک وقت بینرز لگانا کوئی عام آدمی کا کام نہیں ہے۔ آنے والے چار پانچ مہینوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ملک میں سیاسی بے یقینی رہے گی اور یہ سب اس وجہ سے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکومت سے خارجہ پالیسی سمیت کئی امور پر خوش نہیں ہے۔‘‘