مادہ پرستی کو رد کر دیں، پوپ فرانسس | حالات حاضرہ | DW | 25.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مادہ پرستی کو رد کر دیں، پوپ فرانسس

پوپ فرانسس نے کرسمس کے موقع پر اپنی روایتی "Urbi et Orbi" یعنی شہر اور دنیا کے لیے دعا کرائی۔ اس موقع پر انہوں نے ہزاروں عقیدت مندوں سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں امن کے قیام کے لیے کوششیں کرنے کے لیے کہا۔

کرسمس کے پہلے روز یعنی پچیس دسمبر کو پیٹرز ڈوم کی ایک بالکنی سے اپنی روایتی دعا "Urbi et Orbi" کے دوران پوپ فرانسس نے دنیا سے مسلم انتہا پسندوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے بقول یہ پرتشدد واقعات دنیا کے مختلف ممالک میں بہت زیادہ مصائب کا سبب بن رہے ہیں۔ اس دعائیہ تقریب کو کرسمس کا اہم ترین حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس سے قبل شب کرسمس یعنی چوبیس دسمبر کو پوپ فرانسس نے عقیدت مندوں سے مادہ پرستی کو مسترد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے بقول مادہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان جدید معاشرے میں عدم توازن پیدا کر رہا ہے۔ ’’ایک ایسا معاشرہ، جہاں غیر ضروری اشیاء کی بے تحاشا خریداری ہو، صرف تفریح کو پیش نظر رکھا جاتا ہو، تعیش کی بہتات ہو، نمائش پر زیادہ توجہ دی جاتی ہو اور لوگ خود غرض ہو چکے ہوں تو ایسے معاشرے میں حضرت عیسیٰ نے آسان، متوازن اور سادے رویے اپنانے کی تلقین کی ہے‘‘۔

ویٹیکن کے پیٹرز ڈوم (کلیسا) کے سامنے موجود ہزاروں عقیدت مندوں سے پوپ کا کیا جانے والا یہ خطاب دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں براہ راست نشر کیا گیا۔ ان کے بقول دنیا کے متعدد ممالک میں مسیحی اپنے مستقبل کے حوالے سے خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ خطے ایسے ہیں، جہاں انہیں یہ مقدس تہوار منانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ ’’دنیا میں اکثر گناہ کرنے والوں کے خلاف شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جبکہ گناہ کو زیادہ برا نہیں سمجھا جاتا۔ ہمیں انصاف کی سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس تقریب میں شرکت کے لیے کارڈینلز، بشپس اور ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند ویٹیکن کا رخ کرتے ہیں۔ مسیحیوں کے روحانی پیشوا 2013ء میں اس منصب پر فائز ہونے کے بعد سے سادگی کی تلقین کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے پیٹرز ڈوم میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

دوسری جانب کرسمس کے موقع پر جرمنی میں کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ بشپس نے مسیحیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنائیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام مسیحیوں کو چاہیے کہ وہ پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے افراد کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہیں۔