1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مقامی ہیروز

’مادر پاکستان‘ بلقیس ایدھی کی خدمات

ایدھی فاؤنڈیشن کے کراچی میں موجود ہیڈ آفس جائیں تو وہاں آپ کو ایک نہایت مشفق اور ساہ لوح خاتون دیگر ساتھیوں کے ساتھ مختلف کاموں میں مصروف نظر آئیں گی۔ ادارے کی تمام خواتین انہیں امی کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔

یہ ہستی کوئی اور نہیں بلکہ بلقیس ایدھی ہیں جنہیں ان کی سماجی خدمات کے اعتراف کے طور پر بعض لوگ مادر پاکستان کا لقب بھی دیتے ہیں۔ اپنے فلاحی اور سماجی خدمات کے حوالے سے پاکستان بھر میں جانے جانی والی شخصیت بلقیس ایدھی کی خدمات کا اعتراف اب بھارت میں کیا گیا ہے۔ بھارتی لڑکی گیتا کی دیکھ بھال کرنے پر بھارت نے انہیں مدر ٹریسا ایوارڈ 2015ء سے نوازہ ہے۔

عبدالستار ایدھی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں لیکن سماجی خدمات اور رفاحی کاموں میں جس قدر خدمات اور محنت بزرگ اور معروف شخصیت عبدالستار ایدھی کی ہیں، اتنی ہی بلقیس ایدھی کی بھی ہیں۔ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے شروع ہونے والے ایدھی ٹرسٹ کو ملک کے سب سے بڑے اور فعال ترین ادارے ایدھی فاؤنڈیشن میں بدلنے میں عبدالستار ایدھی کے ساتھ ان کی زوجہ بلقیس ایدھی بھی ان کے شانہ بشانہ رہیں۔

بلقیس ایدھی کی زندگی اور جدوجہد

ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے محض 16 سال کی عمر میں ایدھی صاحب کے قائم کردہ نرسنگ ٹریننگ اسکول میں داخلہ لیا اور نرسنگ کی باقاعدہ پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔ ان کی محنت، لگن اور جوش وجذبے کو دیکھتے ہوئے ایدھی صاحب نے نرسنگ کے اس ادارے کی ذمہ داریاں انہیں سونپ دیں۔ بلقیس ایدھی کے مطابق، ''اس دور میں نرسنگ کے شعبے کی طرف خواتین کا رجحان بہت کم تھا۔‘‘

انہوں نے اس ادارے میں دو برس تک جانفشانی اور انتہائی لگن کے ساتھ کام کیا اور یہی محنت اور جذبہ ہی عبدالستار ایدھی کے دل میں بھی گھر کر گیا۔ یوں 1966ء میں بلقیس بانو، عبدالستار ایدھی کی رفیق حیات بن گئیں۔

شادی کے بعد ان دونوں سماجی شخصیات نے بہت سے نئے فلاحی کاموں کا آغاز کیا۔ بے گھر ہونے والی خواتین کو ادارے میں جگہ دینا ہو یا ایدھی میٹرنٹی ہوم میں زچہ وبچہ کی دیکھ بھال کرنا ہو، اس طرح کے خواتین سے متعلق تمام فلاحی کاموں کی نگرانی بلقیس ایدھی کرنے لگیں۔

بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن

ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں سے متعلق فلاحی کاموں کے لیے بلقیس ایدھی نے بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی بھی بنیاد رکھی۔ یہ فاؤنڈیشن لاوارث بچوں کی دیکھ بھال سے لے کر لاوارث اور بے گھر لڑکیوں کی شادیاں کروانے کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس فاؤنڈیشن کا کام بلقیس ایدھی اپنی دو بیٹیوں اور الگ عملے کے ساتھ دیکھتی ہیں۔

’ناجائز بچوں‘ کو قتل سے بچانے کے لیے جھولا پراجیکٹ

بلقیس ایدھی کے نمایاں ترین فلاحی کاموں میں سے ایک ’ناجائز‘ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے شروع کیا جانے والا جھولا پراجیکٹ ہے۔ پاکستان بھر میں قائم ایدھی فاؤنڈیشن کے ہر مرکز کے باہر ایک جھولا رکھا ہے جس پر لکھا ہے 'بچوں کو قتل نہ کریں، جھولے میں ڈال دیں‘۔ ان جھولوں میں لوگ ایسے بچوں کو خاموشی سے ڈال جاتے ہیں جو کسی بھی وجہ سے خاندان کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ ان بچوں کو ایدھی سینٹر میں پالا پوسا جاتا ہے۔ پھر ایسے بچوں کو بے اولاد والدین کو دینے کے کام کی نگرانی بھی بلقیس ایدھی کی ذمہ داری ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق، ''اب تک تقریبا 16000لاوارث بچوں کو بے اولاد والدین کے حوالے کیا جا چکا ہے۔‘‘

صرف یہی نہیں بلکہ کئی ہزار خواتین کو پناہ دینے، انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور کسی وجہ سے اپنے گھر سے ناراض ہو کر آنے والی خواتین کی ان کے خاندان کے ساتھ صلح کرا کے انہیں ان کے گھروں تک پہنچانے جیسے کام بھی بلقیس ایدھی انجام دیتی ہیں۔

مدر ٹریسا ایوارڈ 2015ء

بلقیس ایدھی نے پڑوسی ملک بھارت سے تعلق رکھنے والی سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم لڑکی گیتا کی 15 برس تک دیکھ بھال کی۔ گیتا 10برس کی عمر میں غلطی سے پاکستان پہنچ گئی تھی، جسے ایدھی سینٹر کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ بلقیس ایدھی کی طرف سے گیتا کا مذہبی تشخص برقرار رکھنے اور اسے اُس کے ملک واپس بھیجنے کے لیے انتھک کوششوں کا اعتراف بھارت کی طرف سے بھی کیا گیا ہے۔ اسی اعتراف کے طور پر بھارت نے بلقیس ایدھی کو مدر ٹریسا ایوارڈ 2015ء سے نوازہ ہے۔