1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ماحول دوست سیاحوں کی منزل، کوسٹا ریکا

لاطینی امریکہ کا ملک کوسٹا ریکا قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے اور ہر سال دُنیا بھر سے لاکھوں سیاح اِس ملک کے قدیم اُستوائی جنگلات کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں جرمن صدر کرسٹیان وولف نے بھی اس ملک کا دورہ کیا تھا۔

کوسٹا ریکا کا نیشنل پارک

کوسٹا ریکا کا نیشنل پارک

تاہم جرمن صدر کے دورے کا مقصد اس ملک کی سیاحت نہیں بلکہ جرمنی اور کوسٹا ریکا کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ کوسٹا ریکا کی قیادت کو بہرحال امید ہے کہ جرمن صدر کے دورے کے بعد اور بھی زیادہ تعداد میں جرمن سیاح اپنی تعطیلات اس ملک میں گزارنے کا فیصلہ کریں گے۔

لاطینی امریکی ملک کوسٹا ریکا بحیرہء کیریبین اور بحرالکاہل کے درمیان واقع ہے اور گزشتہ برس جرمنی سے تقریباً پچاس ہزار سیاحوں نے اپنی تعطیلات اِس ملک میں گزاریں، خاص طور پر اِس ملک میں پائے جانے والے بے شمار نایاب درختوں اور جانوروں کو دیکھنے کےلیے۔

جرمن صدر کرسٹیان وولف کوسٹا ریکا کے حالیہ دورے کے دوران وہاں کی خاتون صدر لاؤرا چنچلا مرانڈا کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں

جرمن صدر کرسٹیان وولف کوسٹا ریکا کے حالیہ دورے کے دوران وہاں کی خاتون صدر لاؤرا چنچلا مرانڈا کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں

مونٹی ویرڈے کوسٹا ریکا کی ماحول دوست سیاحت کو جانے والے سیاحوں کی توجہ کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں کے قدیم اُستوائی جنگلات تقریباً دَس ہزار ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور سیاح ایک تار سے بندھے جھولے میں بیٹھ کر پھسلتے ہوئے اِس جنگل کی سیر کا انوکھا تجربہ کرتے ہیں۔ یہ علاقہ کوسٹا ریکا کے قدرتی ماحول کے تحفظ کے اہم ترین علاقوں میں سے ایک ہے، جسے گزشتہ برس پوری دُنیا سے دو ملین سے زیادہ مہم جوؤں اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے علم برداروں نے جا کر دیکھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ماحول دوست سیاحت کوسٹا ریکا کے لیے زرِ مبادلہ کے حصول کا اہم ترین ذریعہ بن چکی ہے۔

مونٹی ویرڈے کے ایک ہوٹل کے مینیجر کرسٹیان گومیز بتاتے ہیں:’’اب تو کوسٹا ریکا میں باقاعدہ مقابلہ بازی شروع ہو چکی ہے کہ کون سا ہوٹل زیادہ ماحول دوست ہے۔ جتنا زیادہ کوئی ہوٹل ماحول دوست ہو گا، اتنا ہی زیادہ اُسے اس بات پر فخر ہوتا ہے اور اُتنا ہی زیادہ اُس کے ہاں مہمان بھی آتے ہیں۔ بہت سے گاہک آنے سے پہلے باقاعدہ تحفظ ماحول کے حوالے سے استفسار کرتے ہیں۔‘‘

سیاحت کے بعد کوسٹا ریکا کی معیشت کا دوسرا بڑا شعبہ زراعت ہے۔ اُستوائی خطّے کے پھل، سبزیاں اور کافی اہم ترین برآمدات ہیں۔ یہ ملک دُنیا بھر میں کیلے برآمد کرنے والا بھی دوسرا بڑا ملک ہے۔ تاہم اب وقت کے ساتھ ساتھ تجارتی اداروں کے ہاں انناس کو زیادہ سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال انناس کی برآمدات کے شعبے میں 300 ملین یورو سے زیادہ کی آمدنی ہوئی۔ تاہم تحفظ ماحول کے علم بردار ہینری سیکوئیرا کے خیال میں انناس کی پیداوار ماحول کے لیے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔

گزشتہ برس جرمنی سے تقریباً پچاس ہزار سیاحوں نے اپنی تعطیلات اِس ملک میں گزاریں، خاص طور پر اِس ملک میں پائے جانے والے بے شمار نایاب درختوں اور جانوروں کو دیکھنے کےلیے

گزشتہ برس جرمنی سے تقریباً پچاس ہزار سیاحوں نے اپنی تعطیلات اِس ملک میں گزاریں، خاص طور پر اِس ملک میں پائے جانے والے بے شمار نایاب درختوں اور جانوروں کو دیکھنے کےلیے

’’انناس کی پلانٹیشنز ماحول کے لیے بڑے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ کیڑے مار ادویات کا بے تحاشا استعمال زیر زمین آبی ذخائر کو آلودہ کرتا ہے، جو کہ ہمارے اہم ترین معدنی ذخائر میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ لوگ کئی ملین کے اس کاروبار میں نفع کمانے کے لیے جنگلات کے ایسے حصے فروخت کر دیتے ہیں، جو قدرتی تحفظ کے زون میں شامل ہوتے ہیں۔‘‘

کوسٹا ریکا کے حکام کو اس طرح کے ماحول دشمن رجحانات پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ اِس ملک کی ماحول دوست ساکھ کو خراب ہونے سے بچایا جانا چاہیے ورنہ اِس کے سیاحتی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ ملک اپنی توانائی کی ننانوے فیصد ضروریات قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرتا ہے۔

رپورٹ: مشائیل آلٹن ہینے / امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس