1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ماحول دوست سستے گھر، پاکستانی اور جرمن ماہر تعمیرات کی کوششیں

جرمنی کے ممتاز ماہر تعمیرات پروفیسر ڈاکٹر نوبرٹ پنچ گزشتہ دس سالوں سے پاکستان میں مٹی کے بنے ہوئے سستے اور ماحول دوست گھروں کی تعمیر کے لئے مختلف تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ان گھروں کو نمائش کے لیے پیش کیا ہے.

default

بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں بنائے گئے ان چھوٹے گھروں میں تعمیراتی علوم پڑھنے والے  طلبہ مختلف موسموں میں ان گھروں میں پائے جانے والے درجہ حرارت کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈاکٹر نوبرٹ پاکستانی ماہرین تعمیرات سے مل کر جو ماحول دوست مکانات تعمیر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں،  ان کے ذریعے نہ صرف سیلاب اور زلزلے جیسی آفات میں بڑے نقصانات سے بچا جا سکے گا بلکہ ان گھروں میں بجلی کی ضروریات بھی توانائی کے متبادل ذرائع سے پوری کی جا سکیں گی۔

 پیر کی شام لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ڈاکٹر نوبرٹ نے پاکستانی آب وہوا سے مطابقت رکھنے والے نئے ڈیزائن کردہ گھروں کے نمونے نمائش کے لیے پیش کیے۔ ان گھروں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انہیں پاکستان میں آسانی سے دستیاب مٹیریل سے تیار کیا گیا ہے۔ ایک گھر روایتی طور پر کچی مٹی سے بنایا گیا تھا جبکہ دوسرے گھر میں 55 فیصد مٹی اور باقی سیمنٹ استعمال کیا گیا ۔ اسی طرح کچی مٹی سے بنائے گئے تیسرے گھر کی تعمیر میں 15 سینٹی میٹر مٹی کی دیوار اور بانس کی بنی ہوئی چھت استعمال کی گئی تھی۔

 ڈاکٹر نوبرٹ مٹی سے بنے کچے گھروں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے بہت مفید خیال کرتے ہیں۔ پاکستان کے ایک معروف آرکیٹیکٹ غیور عبید سید نے ڈاکٹر نوبرٹ کی تحقیق سے متاثر ہو کر ایسے گھر ضلح لیہ کے سیلاب زدہ علاقوں میں بنائے بھی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک پائلٹ پراجیکٹ جلد شروع کیا جا رہا ہے۔

غیور عبید نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ جرمنی سے آکر پاکستانی دیہات میں رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرنے والے ڈاکٹر نوبرٹ کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ ان کا منصوبہ اقتصادی اعتبار سے تو  موزوں ہے لیکن سماجی  طور پر اس میں کئی مشکلات ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو آخر کار سستے اور ماحول دوست طرز تعمیر کی طرف ہی آنا ہوگا۔

ایک نوجوان الیاس نے بتایا کہ مٹی سے ڈیزائن کئے گئے گھر حیرت انگیز طور پر ٹھنڈے ہیں اور انہیں آسانی سے بنایا جا سکتا ہے۔  ڈاکٹر نوبرٹ نے بتایا کہ اس منصوبے کے لئے انھیں جرمن ایمبیسی اسلام آباد اور جرمنی کے غیر سرکاری ادارے لائنز کلب کی معاونت میسر رہی ہے۔

ڈاکٹر نوبرٹ کچی مٹی سے بنائے گئے ماحول دوست گھروں اور شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی کو پاکستانی ماہرین تعمیرات میں متعارف کرانے کے لئے ایک گرین میگزین بھی شروع کرنے والے ہیں۔ 

وہ اوکاڑہ کے ایک پسماندہ گاؤں میں غریب خواتین کے بنائے ہوئے ہینڈی کرافٹس کے ایک فلاحی منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں اور ان ہینڈی کرافٹس کی خریداری کے لیے یورپ کے عجائب گھروں کو دعوت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رپورٹ:  تنویر شہزاد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM