1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ماحولیات کی عالمی کانفرنس، اختلافات سامنے

کوپن ہیگن میں جاری بین الا قوامی موحولیاتی کانفرنس کےآغازکو تین روز ہوچکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کو درپیش خطرات کے حوالے سے کانفرنس میں شریک ممالک کی طرف سے مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آرہے ہیں۔

default

اس حوالے سے چین نے قدرے سخت موقف اپناتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کاربن گیسوں کے اخراج میں واضح کمی کا اعلان کریں۔ چینی مندوب نے واضح طور پر امریکہ، جاپان اور یورپ کو مخاطب کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا۔

پیر کے روز سے شروع ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کے ابتدائی دنوں میں ہی مختلف گروپوں اور ملکوں کے درمیان اختلافات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ چین نے اس حوالے سے موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ جاپان اور یورپی ممالک اپنے ہاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں واضح کمی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ کانفرنس میں شریک چینی مندوب سووی کا کہنا تھا کہ عالمی ماحول کو تباہی سے بچانے کے لئے بڑے صنعنتی ممالک پر اب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حوالے سے دنیا کو کوئی مثبت پیغام دیں۔

Yvo de Boer

اقوام متحدہ کے ماحولیات کے شعبے کے سربراہYvo de Boer

چین نے یہ اعلان کرتے ہوئے خود کو ایک طرح سے ترقی پزیر اور غریب ممالک کا نمائندہ ظاہر کیا ہے۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز میزبان ریاست ڈنمارک کی طرف سے ایک ڈرافٹ پیش کیا گیا، جس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہونے والے ممالک کے لئے سالانہ امداد کی تجویز دی گئی تھی۔ اس ڈرافٹ کو گروپ 77 کے تمام ممالک اور گرین ہاؤس تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈرافٹ پر تنقید کرتے ہوئے ترقی پزیر ممالک کے گروپ 77 کے موجودہ سوڈانی سربراہ Lumumba Stanislas Dia Ping کا کہنا تھا: " یہ پیش کردہ ڈرافٹ کانفرنس کی کامیابی کو متاثر کر سکتا ہے، اس میں سراسر غریب ریاستوں کے حقوق کونظر انداز کیا گیا ہے۔"

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پھر بھی کانفرنس سے واک آؤٹ نہیں کریں گے، کیونکہ کانفرنس کی ناکامی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگی۔

ماہرین کے مطابق موجودہ چینی موقف کسی حد تک حیران کن بھی ہے کیونکہ چین خود ان بڑے ممالک میں شامل ہے، جو صنعتی آلودگی اور کاربن گیسوں کے اخراج میں سرفہرست ہیں۔ جبکہ انہی بڑے ممالک کے درمیان اختلافات ہی کانفرنس کی ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔

دوسر ی طرف اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ وہ بہت حد تک پر امید ہیں کہ کانفرنس میں ایک ایسے معاہدے پر اتفاق رائے ہوجائے گا جو کسی موزوں معاہدے کی راہ ہموار کرسکے گا۔

رپورٹ : عبدالرؤف انجم

ادارت : افسر اعوان