1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماحولیات کی عالمی سربراہ کانفرنس کا آغاز

آج سے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی عالمی کانفرنس کا آغاز ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہو گیا ہے، جس میں 15 ہزار سے زائد مندوبین اور سو عالمی رہنما حصہ لے رہے ہیں۔

default

اس اجلاس کا مقصد تحفط ماحول کے لئے کی جانے والی کوششوں میں تیزی لانا اور متفقہ طور پر کسی معا ہدے پر دستخط کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کے لئے ایک سو نوے ممالک کے وفود کوپن ہیگن میں جمع ہوئے ہیں۔

تحفظ ماحول اور آئندہ نسلوں کی بہتری کے لئے کیا واقعی انیس دسمبر تک کوئی متفقہ سمجھوتا طے پا جائے گا ؟ اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ تاہم اس اجلاس کے آغاز پر کم از کم پرامیدی کی فضا دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کانفرنس کی کامیابی کے بارے میں اقوام متحدہ کے مرکزی ماحولیاتی مذاکرات کار یوو ڈی بوئر کا کہنا ہے۔

Dänemark Klimakonferenz Kopenhagen Bella Center Pressekonferenz

عالمی رہنما اس کانفرنس میں کسی اہم معاہدے کی منظوری کی کوشش کریں گے، جو ماحولیات سے متعلق موجودہ عالمی معاہدے کیوٹوپروٹوکول کی جگہ لے سکے

"ہم گزشتہ سترہ برسوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں اور تحفظ ماحول کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن تحفظ ماحول کے لئے اتنے وعدے کبھی بھی نہیں کئے گئے، جتنے کہ اس وقت کئے جا رہے ہیں۔ کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں ماحول کو آلودہ کرنے والی مضر گیس کے اخراج میں کمی کے اہداف طے نہ کئے جاتے ہوں۔ اور اس سلسلے میں نئے نئے ایکشن پلان تیار نہ کئے جاتے ہوں۔ اس بات کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔"

اس سے پہلے مثال ان وعدوں کی بھی نہیں ملتی جو چین اور امریکہ نے تحفظ ماحول کے لئے گزشتہ ہفتے کئے ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ چین اور امریکہ نے زہریلی گیسوں کے اخراج میں ایک بڑی کمی کے لئے اعدادو شمار پیش کئے ہوں۔ اور شائد یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی پر امید نظر آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مرکزی مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے بعد ہر حال میں عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے اور مالیاتی فنڈز کی بھی ضرورت ہے وہ کہتے ہیں۔

" اگر ہم قلیل المعیاد فنڈز کی بات کریں تو سن دوہزار دس ،گیارہ اور بارہ کے لئے ہمیں 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ طویل مدت کے لئے کاربن ڈائی اُکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور اس جیسے دوسرے اقدامات کے لئے ہمیں زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔اور اگر ہم سن دوہزار بیس یا تیس کی بات کرتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں کئی سو ارب ڈالر سے بھی زیادہ کی ضرورت ہو گی۔"

تحفظ ماحول کے لئے فنڈز کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اور دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ دو ہفتوں میں ایک سو نوے ممالک کے نمائندے کوپن ہیگن منعقدہ اس اجلاس میں اہداف متعین کرنے کے عمل میں کس حد تک کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

رپورٹ : امتیاز احمد

ادارت : کشور مصطفیٰ