1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ماحولیات کا عالمی دن

آج جمعہ کے روز دنیا بھر میں ماحول کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے مختلف طریقوں کی وضاحت کی گئی ہے۔

default

موحولیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر براعظم افریقہ میں دیکھائی دیتا ہے

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام UNEP کی تازہ ترین رپورٹ میں زمین کے ماحول کو سبز مکانی گیسوں کے اثرات سے بچانے کے لئے جنگلات کی کٹائی کو روکنے، غیر محتاط طرز زراعت سے بچنے اور ماحول دوست طریقے اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے UNEP کی اس رپورٹ میں کئی شعبوں میں بہت اہم مشورے دیئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ کرہ ارض کے حیاتیاتی نظاموں کا بہتر انتظام کئی ارب ٹن ایسی زہریلی گیسوں کے غیر نقصان دہ انداز میں زمین پر ہی دوبارہ جذب کئے جانے کا باعث بن سکتا ہے جو اب تک ماحول کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔

Verkehr in Pakistan

فضا میں سبزمکانی گیسوں کی مقدار میں اضافہ ان تبدیلیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے

عالمی ماحولیاتی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آخم شٹائنر کے مطابق کرہ ارض کو ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لئے فطرت کے وضع کردہ لاتعداد حیاتیاتی نظام، مستقبل میں 50 بلین ٹن کاربن گیسوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم قدرتی ماحالیاتی نظام کے اس طویل سلسلے میں جملہ ماحول دوست امکانات کو استعمال میں لانے کے لئے خود زمین پر آباد انسانوں کو بھی اپنے اردگرد کی آب و ہوا کو صاف رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔

عالمی یوم ماحول کے موقع پر ماحولیاتی پروگرام کی اس رپورٹ سے چند روز قبل ہی عالمی بینک نے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر اپنی ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ کی شریک مصنفہ ماریئن فے ماحولیاتی تباہی کے عمل میں مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کو حساس ترین علاقے قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں : ’’مشرقی یورپی ملکوں پر ماحولیاتی تبدیلیوں اور زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات انتہائی شدید ہیں۔ اس وجہ سے اس خطے میں خشک سالی کے واقعات اور اچانک سیلاب کافی زیادہ دیکھنے میں آنے لگے ہیں۔ آج کے مشرقی یورپ میں آب وہوا کی تبدیلی کا بہت قریبی تعلق ماضی میں کالعدم ریاست سوویت یونین کی طرف سے صنعتی اور زرعی شعبوں میں برتی جانے والی شدید غفلت سے بھی ہے۔‘‘

دنیا کے دوسرے خطوں میں ماحولیاتی تبدیلیاں وہاں پر آج کی انسانی آبادی کی لاپرواہی کی بناء پر دیکھنے میں آرہی ہیں۔ Marianne Fay کہتی ہیں: ’’ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ زمین کی فضا میں پہلے سے موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیاں ہوتی رہیں گی، چاہے ہم آج ہی سے کاربن گیسوں کا فضا میں اخراج روک بھی دیں۔‘‘

بین الاقوامی سطح پر فضا میں سبز مکانی گیسوں کے اخراج اور عالمی ماحول میں ابتری کے مجموعی عمل کے موضوع پر اقوام متحدہ کی ایک عالمی کانفرنس اسی سال دسمبر میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہوگی جس میں ایک نئے عالمی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

رپورٹ : انعام حسن

ادارت : مقبول ملک