1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماحولیات سے متعلق کانفرنس میں اختلافات

کوپن ہیگن میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جاری ماحولیاتی کانفرنس میں ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

default

منگل آٹھ دسمبر کو چین نے یورپی یونین، امریکہ اور جاپان پر الزام عائد کیا کہ وہ کاربن گیسوں کے اخراج میں انتہائی معمولی کمی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب گروپ 77 میں شامل ملکوں کے نمائندوں نے ڈنمارک کے مسودہ کو موسمیاتی تبدیلی پر سیاسی معاہدے کی کامیابی کے لئے ایک خطرہ قرار دیا ہے۔ تاہم ابھی تک اس مسودے کے مواد کو سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا ہے۔

گروپ 77 کے رہنما اورسوڈان کے نمائندے لومومبا نے کہا کہ وہ اور گروپ میں شامل تمام ممالک کوپن ہیگن کانفرنس کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گروپ 77 میں شامل ممالک کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے، جو برابری کے اصولوں کے منافی ہو۔’’ہم کسی بھی ایسی ڈیل کی مخالفت کریں گے، جس میں دنیا کی اسی فی صد آبادی کی مذمت کی جائے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کوپن ہیگن کانفرنس سے بہت ساری توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ بان کی مون نے امید ظاہر کی ہے کہ کانفرنس میں شریک عالمی رہنما کوپن ہیگن کانفرنس میں کاربن گیسوں کے اخراج میں واضح حد تک کمی لانے کے حوالے سے کسی نہ کسی معاہدے پر ضرور متفق ہوجائیں گے۔

China Climate Change

اس عالمی کانفرنس میں چین کے ایک نمائندے سُو وی کا کہنا تھا کہ ماحول کو تباہی سے بچانے کی بہت زیادہ ذمہ داری طاقتور ترین صنعتی ممالک پر ہی عائد ہوتی ہے۔ کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کی مقدار پر اختلاف، ماحولیات سے متعلق عالمی معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں چین، بھارت اور برازیل ایک طرف جبکہ امریکہ، یورپ اور جاپان دوسری طرف ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں بین الاقوامی کانفرنس کا باقاعدہ آغاز پیر کے روز ہوا۔ بارہ روزہ اس کانفرنس میں دُنیا کے 192 ملکوں‍ کے تقریباً پندرہ ہزار مندوبین اور صحافی شریک ہیں۔ اس سمٹ میں عالمگیر ماحولیاتی تبدیلی اور زمینی درجہء حرارت پر قابو پانے سے متعلق کسی ایسے سمجھوتے پر راضی ہونے کی کوشش کی جائے گی، جو کیوٹو پروٹوکول کا متبادل بن سکے۔

کیوٹو پروٹوکول سن 1997ء میں عمل میں آیا تھا لیکن اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے تھے۔ کوپن ہیگن سمٹ میں 103 حکومتوں کے سربراہان کی شرکت متوقع ہے، جن میں امریکی صدر باراک اوباما اور جرمن چانسلرانگیلا میرکل بھی شامل ہیں۔ یہ سمٹ اٹھارہ دسمبر کو اختتام پذیر ہوگا۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے/گوہر نذیر گیلانی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM