1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماحولیاتی کانفرنس کے دن بیجنگ دھند سے مفلوج

چینی دارالحکومت بیجنگ میں شدید دھند کی وجہ سے ہائی ویز اور تعمیراتی کام بند ہیں، جب کہ رہائشیوں کو گھروں ہی میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ آج ہی پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا انعقاد بھی ہو رہا ہے۔

چینی وزارتِ تحفظ ماحول نے شہر میں آلودگی کی اس شدت کے پیش نظر وارننگ کی دوسری بلند ترین سطح ’نارنجی‘ کا اعلان کیا ہے۔ چینی وزارت کے مطابق شدید دھنگ کی وجہ ’غیرموافق موسم‘ ہے۔ حکام کے مطابق شہری علاقوں میں گھروں کو گرم کرنے والے نظاموں کے استعمال اور سست روی کی ہوائیں چلنے کی وجہ سے شمالی چین میں ضرر رساں گیسیں منتشر نہیں ہوتیں، جس کا نتیجہ کثیف اور گہری دھند کی صورت میں نکلتا ہے۔

حکام کی جانب سے اس شدید دھند کے بعد وارننگ کی سطح اورنج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جو بلند ترین سطح سرخ کے بعد دوسرے نمبر پر سنگین ترین لیول ہے۔ بتایا گیا ہےکہ بیجنگ اگلے تین روز تک اس شدید دھند کی لپیٹ میں رہے گا۔

پیرس میں شروع ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر یہ سوال یقیناﹰ چینی قیادت کے لیے اہم ہو گا کہ کس طرح چین کوئلے سے توانائی کے حصول میں کمی لا سکتا ہے اور کس طرح توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہتر اور قابل تجدید طریقوں کی جانب بڑھنا ممکن ہو گا۔

Sandsturm in Peking

شدید دھند کی وجہ سے بیجنگ میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے

بیجنگ کی ساڑھے بائیس ملین کی آبادی کے لیے ایسی شدید فضائی آلودگی کی وجہ سے سانس کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق اس شدید دھند کی وجہ سے پورا شہر متاثر ہے اور ہر سانس کے ساتھ یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہوا صاف نہیں۔

دریں اثناء چینی صدر شی جن پنگ پیرس پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کریں گے اور افتتاحی تقریب میں خطاب بھی کریں گے۔ پیر ہی کے روز فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں 150 عالمی رہنماؤں کو خوش آمدید کہنے کے لیے اجلاس کے مقام پر پہنچے۔

12 روز تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں 195 ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں اور اس کانفرنس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ عالمی رہنما فضا میں ضرر رساں گیسوں کے اخراج اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے موثر معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینی درجہ حرارت میں اضافہ تیزی سے جاری ہے اور اگر ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی نہ کی گئی، تو سمندری سطح میں اضافہ جاری رہے گا اور دنیا کے متعدد جزائر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے، جب کہ متعدد مقامات پر ساحلی علاقے زیرآب آ جائیں گے۔