1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماحولیاتی معاہدہ، امریکا دنیا میں تنہائی کا شکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماحولیاتی معاہدے سے امریکا کے اخراج پر دنیا بھر میں تنقید جاری ہے اور عالمی سطح پر امریکا ایک طرح سے تنہائی کا شکار ہے۔

اس تنہائی کا اندازہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے سخت الفاظ میں یورپ پر الزامات عائد کرنے سے بھی ہوتا ہے، جس میں ٹرمپ کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یورپی ممالک امریکی معیشت کی کمزوری چاہتے ہیں۔

جمعے کے روز وائٹ ہاؤس کی جانب سے ماحولیاتی معاہدے سے امریکی انخلا کے فیصلے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ امریکی معیشت کے لیے نامناسب اور درست نہیں تھا۔ وائٹ ہاؤس نے ’ماحولیاتی تبدیلیوں کے رونما ہونے کو ’حقیقی‘ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔

عالمی سطح پر امریکی فیصلے پر سخت ردعمل کے جواب میں جمعے کے روز متعدد اعلیٰ امریکی عہدیداروں نے فیصلے کے حق میں بیانات دیے۔

پیرس میں سن 2015ء میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ رواں صدی کے اختتام تک ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی کرتے ہوئے بلند ہوتے درجہء حرارت کو دو ڈگری سے کم تک محدود کیا جائے۔

ماحولیات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اعلیٰ مشیر اسکاٹ پروئٹ نے کہا، ’’جب ہم نے پیرس معاہدہ تسلیم کیا، تو دنیا نے تالیاں بنائیں، آپ جانتے ہیں کیوں، میرے خیال میں وہ خوش تھے کیوں کہ اس سے ہمارے ملک کو نقصان ہونا تھا۔‘‘

USA Pressesprecher - Scott Pruitt und Sean Spicer (picture alliance/AP/dpa/P. Martinez Monsivais)

امریکی حکام صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کا دفاع کرتے دکھائی دے رہے ہیں

ماحولیات کے تحفظ کی امریکی ایجنسی کے سربراہ کے طور پر کام کرنے والے پروئٹ نے مزید کہا، ’’یورپی رہنما کیوں چاہتے ہیں کہ ہم اس معاہدے کا حصہ رہیں۔ کیوں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہماری معیشت کمزور ہو۔‘‘

ٹرمپ کے اس مشیر نے عالمی طور پر سائنس دان برادری کی جانب سے مسلمہ حقیقت کے طور پر پیش کیے جانے والے ’ماحولیاتی تبدیلیوں‘ کے معاملے کو بھی حقیقی خطرہ قرار دینے سے اجتناب کیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شین سپائسر نے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کو حقیقی خطرہ قرار دینے سے متعلق صحافیوں کی جانب سے کیے گئے سوالات کے جواب دینے سے انکار کیا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ ضرر رساں گیسوں کے اخراج کے اعتبار سے چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم پروئٹ نے کہا کہ اس فیصلے پر امریکا کو بہ حیثیت ملک کسی معذرت خواہانہ رویے کی ضرورت نہیں۔