1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ماحولیاتی معاملات میں چین سے تعاون کریں گے، گورنر براؤن

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر نے ماحولیاتی معاملات میں چین کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ گورنر جیری براؤن نے یہ بات چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ کلائمیٹ فورم کے موقع پر کہی۔

کیلیفورنیا کے گورنر جیری براؤن کا کہنا ہے کہ اُن کی ریاست صاف ٹیکنالوجی، ضرر رساں گیسوں کے اخراج کے سدباب اور ماحول سے جُڑے دوسرے مثبت عوامل میں چین کے ساتھ تعاون کرے گی۔ جیری براؤن ان دنوں چین کے دورے پر ہیں۔

 ریاستی گورنر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کے دوران پیرس کلائمیٹ ڈیل سے علیحدگی اختیار کرنے کے علاوہ ڈیل کے تحت جاری سرگرمیوں سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کے اس فیصلے پر عالمی برادری کی گہری تشویش سامنے آ چکی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف کئی ملکوں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی حکومت اور چین کی وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی مشترکہ طور پر کاربن اخراج کو کنٹرول کر کے اُسے ذخیرہ کرنے کے پروگرام کو جاری رکھیں گے اور مستقبل میں اس مناسبت سے تیار کیے جانے والے آلات کو مارکیٹ میں فروخت کے لیے بھی پیش کیا جائے گا۔ اس مناسبت سے ایڈوانس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت ایسے پروگرام تیار کیے جائیں گے جو سبز مکانی گیسوں کی کمی میں معاون ہوں گے۔

USA Californien - Governeur Jerry Brown in Sacramento (Reuters/M. Whittaker)

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر جیری براؤن

کیلیفورنیا کے گورنر جیری براؤن نے چینی دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ صاف توانائی فورم کے حاشیے میں رپورٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں لیڈرشپ کی ناکامی ایک عارضی عمل ہے اور سائنس اور مارکیٹ اِس صورت حال کو نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جائیں گے۔ گورنر براؤن نے امریکی صدر کے پیرس ڈیل سے باہر ہونے کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا۔

کلین انرجی فورم میں تقریر کرتے ہوئے گورنر نے کہا تھا کہ جو پیرس ڈیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں وہ حقیقت سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماحول کو بہتر کرنے میں دنیا کا تعاون موجود نہیں ہے اور کرہٴ ارض کے باسی اگر ماحول کو بہتر کرنے کی اہمیت سے واقف نہیں ہوں گے تو یقیناً وہ ایک تباہ کن مستقبل کے راستے پر گامزن ہیں۔