1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ماحولیاتی مضر گیسوں میں کمی کے لیے مالی امداد میں پیشرفت

عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق پاناما سٹی میں ہفتہ بھر جاری رہنے والے مذاکرات جمعے کو ختم ہو گئے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ غریب ملکوں کو ماحول کے لیے مضر گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے امداد دینے میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے۔

default

تاہم مضر گیسوں کے اخراج پر پابندی سے متعلق اہم معاہدے کیوٹو پروٹول کی توسیع اب بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

ان مذاکرات کا مقصد آئندہ ماہ کے آخر میں جنوبی افریقہ کے دارالحکومت ڈربن میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس میں متوقع موضوعات پر تبادلہ خیال بھی کرنا تھا۔ ڈربن کانفرنس میں آئندہ برس ختم ہونے والے کیوٹو پروٹوکول کی توسیع کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ  2007ءکے بالی ایکشن پلان اور 2010ءکے کانکون معاہدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تنظیم کی سربراہ کرسٹیانا فیگیرس نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا: ’’امریکہ اور چین سمیت مختلف حکومتیں ایک نئے معاہدے کے لیے کوششوں میں سنجیدہ ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیسے اور کتنی جلد یہ قدم اٹھاتی ہیں۔‘‘

Chefin des UN-Klimasekretariats Christiana Figueres

اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تنظیم کی سربراہ کرسٹیانا فیگیرس

ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیے 1997ء میں دستخط ہونے والا کیوٹو پروٹوکول 2012ء میں ختم ہو رہا ہے۔ کیوٹو پروٹوکول کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنا تھا مگر اس میں صرف ترقی یافتہ ملکوں کو گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کا پابند کیا گیا تھا۔ امریکہ نے اس معاہدے پر دستخط ہی نہیں کیے اور اس کے بعد سے ترقی پذیر اقوام میں بڑے پیمانے پر ان گیسوں کا اخراج جاری ہے۔

روس، کینیڈا اور جاپان نے کہہ دیا ہے کہ وہ موجودہ معاہدے کے اختتام پر پابندیوں کے کسی اور معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ صرف یورپی یونین نے کیوٹو سے وابستگی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے مگر یونین کے مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے عالمی معاہدے پر دستخط کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو صرف پندرہ فیصد گیسوں کے اخراج کا احاطہ کرتا ہو۔

Putin unterzeichnet Kyoto Protokol

اہم صنعتی ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کا اخراج اب بھی جاری ہے

امریکہ کی جانب سے کسی نئے معاہدے پر دستخط کرنے کا امکان نہیں ہے اور ترقی پذیر  ممالک کسی پابند معاہدے پر دستخط سے قبل اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ سبز ماحول کے لیے مالی امداد سے متعلق اقوام متحدہ کا معاہدہ یعنی Green Climate Fund پہلے نافذ کیا جائے۔ لگ بھگ 100 ارب ڈالر سالانہ کا یہ فنڈ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے غریب ملکوں کو مالی امداد فراہم کرے گا۔

پاناما میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر جاری کیے جانے والے اعلامیے میں اس فنڈ کے لیے سرمایے کی نشاندہی کا متن شامل تھا جسے شرکاء نے حوصلہ افزاء پیشرفت قرار دیا ہے۔

ڈربن کانفرنس سے قبل اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کی کمیٹی فنڈ کے فریم ورک کے بارے میں حتمی تبادلہ خیال کرے گی جبکہ بڑے صنعتی ملکوں کا گروپ جی ٹوئنٹی بھی اپنے آئندہ اجلاس میں سبز منصوبوں کے لیے مالی امداد پر غور کرے گا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM