1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ماحولیاتی دہشت گرد‘ کہنے پر برطانیہ میں مسلمان لڑکے سے تفتیش

برطانیہ میں ایک مسلمان لڑکے کو اس وقت پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا، جب اس نے اپنی جماعت میں گفتگو کے دوران ’ایکو دہشت گرد‘ کا لفظ ادا کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس بچے کی جانب سے ’ایکو دہشت گرد‘ کا لفظ ادا کرنے پے برطانوی تحفظ اطفال کے محکمے سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے پوچھ گچھ کی، کیوں کہ انہیں شبہ تھا کہ کہیں اس بچے کا تعلق یا رابطہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے تو نہیں ہے۔

اس بچے کا نام نہیں بتایا گیا ہے، تاہم اس کی عمر 14 ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق مرکزی لندن کے ایک اسکول کے اس طالب علم نے ماحولیات سے متعلق بات چیت کے دوران یہ لفظ ادا کیا۔

بتایا گیا ہے کہ اس کے کچھ ہی روز بعد دو سرکاری اہلکار اسے کمرہ جماعت سے علیحدہ جگہ لے گئے، جہاں اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ مقامی اخبارات کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک اہلکار کا تعلق تحفظِ اطفال کے محکمے سے تھا۔

اخباری رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس لڑکے سے پوچھا گیا کہ آیا یہ اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ ہے، یا اس نے اس عسکری گروہ کے بارے میں کچھ سن رکھا ہے۔

اس بچے کا بیان بھی نام ظاہر کیے بغیر اخباری رپورٹوں میں شائع کیا گیا ہے، ’میں نہیں جانتا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ اسی لیے تمہیں کلاس سے الگ کیا گیا ہے اور تم سے اسلامک اسٹیٹ کے بارے میں پوچھا جائےگا۔ یہ بہت خوف زدہ کر دینے والی صورت حال تھی، میرا تو دل رکا جا رہا تھا۔‘

برطانیہ میں منظور ہونے والے ایک نئے قانون کے تحت تمام اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بچوں کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے بچائیں۔

اس لڑکے کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں عدالتی چارہ جوئی کریں گے، کیوں کہ ان کے بچے کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے تفریق کا نشانہ بنایا گیا۔

گارڈین اخبار نے قانونی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس لڑکے نے ’ماحولیاتی دہشت گرد کی اصطلاح ان لوگوں کے تناظر میں کہی جو مثال کے طور پر درختوں میں موٹی موٹی کیلیں اس لیے گاڑتے ہیں، تاکہ ان درختوں کو برقی آروں کے ذریعے کاٹے جانے سے بچایا جا سکے۔‘