1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ماحولیاتی تنظیم ’فرینڈز آف دی ارتھ مڈل ایسٹ‘ کا اعزاز

مشرقِ وُسطیٰ کی تحفظ ماحول کی علمبردار تنظیم ’فرینڈز آف دی ارتھ مڈل ایسٹ‘ میں اسرائیل، اردن اور فلسطینی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کارکن شامل ہیں۔ یہ تنظیم سن 1994ء سے دریائے اردن کو بچانے کے لئے کوشاں چلی آ رہی ہے۔

default

اوناسس ماحولیاتی انعام جیتنے والے

اِس سال جرمن شہر ہیمبرگ میں ڈھائی لاکھ یورو مالیت کا پہلی مرتبہ دیا جانے والا اوناسِس ماحولیاتی انعام اسی تنظیم کے حصے میں آیا ہے۔ آئندہ سے یہ انعام ہر دو سال بعد ماحول کے تحفظ کے لئے نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کو دیا جایا کرے گا۔

’فرینڈز آف دی ارتھ مڈل ایسٹ‘ کا مرکزی موضوع خطے میں پائی جانے والی پانی کی قلت ہے۔ یہ گروپ مطالعاتی جائزوں، لابی کوششوں اور مختلف النوع منصوبوں کی مدد سے دریائے اردن اور بحیرہء مُردار کو خشک ہونے سے بچانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ خطے کے پہلے سے ہی کم آبی ذخائر کو بچانے کے لئے اِس گروپ کی یہ بھی کوششیں ہیں کہ وادیء اردن میں بسنے والے شہریوں کو اپنے روزگار کے لئے زراعت کی بجائے پائیدار سیاحت کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔

Verleihung des Onassis-Preises für den Schutz der Umwelt

’فرینڈز آف دی ارتھ مڈل ایسٹ‘ کے اسرائیلی سربراہ گیڈون برومبرگ (بائیں) اور فلسطینی سربراہ نادر خطیب (دائیں) اوناسِس انعام کی تقریبِ تقسیم میں

وادیء اردن میں پانی شور مچاتا ہوا نیچے جاتا ہے۔ اوپر سے نیچے نظر ڈالیں، تو دریائے یرموک دکھائی دیتا ہے، جو بعد میں آ کر دریائے اردن میں مل جاتا ہے۔ خاص طور پر موسم بہار میں بہت سے مقامی باشندے شمالی اُردن کے اِس مقام یعنی الحیمہ میں سیر و تفریح کے لئے آتے اور یہاں پکنک مناتے ہیں۔ اِس دوران اُن کی نظریں دریا کے دوسرے کنارے پر واقع گولان کی پہاڑیوں پر بھی پڑتی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ اِس دریا میں سے آج کل کے مقابلے میں دَس گنا زیادہ پانی گزرا کرتا تھا۔

’فرینڈز آف دی ارتھ مڈل ایسٹ‘ سے وابستہ یوسف محارب بتاتے ہیں کہ دریا میں پانی کم ہو جانے سے مقامی باشندے زندگی کی ایک بنیادی ضرورت سے محروم ہو گئے ہیں:’’یہاں کے زیادہ تر باشندے اب اپنی زمین میں زراعت نہیں کرتے بلکہ پانی نہ ہونے کے باعث اُنہوں نے اِس زمین کو تعمیراتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب وہاں فصلوں کی بجائے مکانات بن رہے ہیں۔ زراعت کے شعبے میں کام کرنے کی بجائے اب ان زمینوں کے مالکان یا تو حکومت کے لئے کام کرتے ہیں یا پھر سماجی مدد پر گزارا کرتے ہیں۔‘‘

Israel Jordanien Totes Meer zieht sich zurück

اِس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کبھی بحیرہء مردار کا پانی کہاں تک پہنچا کرتا تھا

’فرینڈز آف دی ارتھ مڈل ایسٹ‘ کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں کو اِس علاقے میں لایا جائے اور مقامی باشندوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ ماحول دوست سیاحت کی مدد سے پیسہ کمائیں۔ سیاحوں کی دلچسپی کے لئے یہاں کافی کچھ ہے، حجاز ریلوے نیٹ ورک کی باقیات ہیں، ایک تاریخی مسجد ہے یا پھر الحیمہ کے گرم چشمے ہیں۔

یوسف محارب اِس گاؤں میں ایک کیفے بھی چلاتا ہے۔ سیاحت کے شعبے میں ابتدائی کامیابیوں کے بعد اب وہ اپنے کیفے میں کچھ اضافے بھی کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے:’’مَیں نے یہ کیفے اپنی ہمت سے اور بغیر کسی بینک وغیرہ کی مدد کے بنایا ہے۔ اب اگر ممکن ہو تو مَیں اِس میں ایک چھوٹا سا باتھ بنانا چاہتا ہوں۔ گرم چشموں کے پانی کی مدد سے اِسے ایک گرم ترک حمام کی سی شکل دی جا سکتی ہے۔‘‘

Jordan

درپائے اردن کا ایک منظر

’فرینڈز آف دی ارتھ مڈل ایسٹ‘ اسرائیل، اردن اور فلسطینی علاقوں میں مجموعی طور پر پچیس مقامات پر الحیمہ کی طرز پر پائیدار اور ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہے۔ عبدالرحمان سلطان اِس گروپ کے نائب صدر ہیں اور بتاتے ہیں کہ معاشی اعتبار سے زراعت کچھ زیادہ فائدہ نہیں دیتی لیکن چونکہ زیادہ تر لوگ اِس سے وابستہ ہیں، اِس لئے اردن میں صاف پانی کا ایک تہائی حصہ صرف زرعی شعبے ہی میں خرچ ہو جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں:’’ہم نے اس گروپ کا آغاز پانی کے با کفایت اور مؤثر استعمال کی ایک تحریک کے طور پر کیا تھا۔ تب ماحول دوست سیاحت پر کام کرنے کا ہمارا کوئی خیال نہیں تھا۔ یہ خیال تو ہمیں اُس جائزے کے بعد آیا، جس میں پانی کے مختلف طرح کے استعمال سے ہونے والی آمدنیوں کے موازنے کے بعد یہ کہا گیا تھا کہ سیاحت کی مدد سے سب سے زیادہ آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘

دریائے اردن کو بچانے کے لئے ’فرینڈز آف دی ارتھ مڈل ایسٹ‘ جو کچھ کر رہا ہے، ماحول دوست سیاحت اُس کا محض ایک پہلو ہے۔ یہ گروپ دریائے اردن کے آس پاس واقع ممالک کے درمیان زیادہ تعاون کے فروغ، کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کو رواج دینے اور فصلوں کی آب پاشی کے زیادہ باکفایت طریقے اختیار کرنے کی ترغیب دینے کے لئے بھی کوشاں ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس