1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ماحولیاتی تبدیلی پر بھارت میں اعلی سطحی میٹنگ

ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر آئندہ دسمبر میں کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی چوٹی کانفرنس سے قبل نئی دہلی میں ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ اور منتقلی پرایک دو روزہ اعلی سطحی میٹنگ ہوئی جس میں 58 ملکوں نے شرکت کی۔

default

اس کانفرنس میں شامل شرکاء میں 30 سے زائد وزراء کےعلاوہ بین الاقوامی کمپنیوں کی نمائندے اور ماہرین ماحولیات شامل تھے۔ اس کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک گلوبل مارشل پلان پر زور دیا گیا۔

کوپن ہیگن میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے مجوزہ عالمی چوٹی کانفرنس میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور منتقلی ایک اہم موضوع ہوگا۔ دہلی میں ہونے والی اس اعلی سطحی میٹنگ میں شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ماحولیات سے ہم آہنگ اور ماحولیات دوست ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر فروغ دینے کی رفتار کو تیز تر کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری اور بالخصوص ترقی پذیر ملکوں تک ان کی منتقلی میں ہونے والی تاخیر کو حتی الامکان کم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام صرف مسلسل کوششوں اور بین الاقوامی تعاون نیز ملکوں کی طرف سے مناسب اقدامات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

کانفرنس میں شریک پاکستان کے سیکریٹری ماحولیات کامران لاشاری نے کہا کہ اس کانفرنس سے ان کے ساتھ ساتھ دیگر ترقی پذیر ملکوں کے کئی خدشات دور ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا: ” اس کانفرنس سے ہمارے جو چند خدشات تھے وہ بھی دور ہوئے ہیں کہ بھارت کا موقف دیگر ترقی پذیر ملکوں اور اپنے پڑوسی ملکوں کے موقف سے الگ نہیں ہے۔ اور اس کی اور ہماری پالیسی میں یکسانیت ہے۔“ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت کے وزیر ماحولیات جے رام رمیش نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ایک خط لکھ کرمبینہ طور پر مشورہ دیا تھا کہ بھارت کو ترقی پذیر ملکوں کے گروپ 77 کے بجائے صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ 20 کے موقف کی حمایت کرنی چاہئے۔ جے رام رمیش نے تاہم بعد میں کہا تھا کہ ان کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ۔

اس کانفرنس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کو حل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی تیار کی جائے جو غریب ملکوں اور غریب کمیونٹی کے لئے مالی لحاظ سے قابل برداشت ہو۔ ابھی یہ ٹیکنالوجی کافی مہنگے ہے۔کانفرنس کے شرکاء اس بات پر متفق نظر آئے کہ دوبارہ قابل استعمال ٹیکنالوجی کے لئے بین الاقوامی سطح پرمالی تعاون کی ضرورت ہوگی اور اس کے لئے ایک گلوبل مارشل پلان بنانا ہوگا۔

کامران لاشاری نے ٹکنالوجی کی ترقی کی بات چیت کو کافی سود مند قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بات چیت سے پاکستان جیسے ملکوں کا حوصلہ بڑھا ہے۔

Steven Chu Bildergalerie Kabinett

امریکہ کے وزیر توانائی Dr. Steven Chu نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس کانفرنس سے خطاب کیا۔

کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے سرکاری اور نجی سطح پر مالیات کی فراہمی ضروری ہے تاکہ بڑے پیمانے پر ترقی اور منتقلی کے عمل کو تیز کیا جاسکے۔کلائمٹ چینج پر اقوام متحدہ کے ایگزیکٹیوسکریٹری Yvo de Boer نے اس حوالے سے کہا کہ ” کلائمٹ چینج کے سلسلے میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے کوپن ہیگن میں ہمارے پاس فوری طور پر دس بلین ڈالر ہونے چاہئیں۔ اس کے بعد طویل المدتی پروگرام یعنی 2020 اور 2030 تک کے لئے 200 بلین ڈالر سالانہ کی ضرورت پڑے گی جب کہ ترقی پذیر ملکوں میں گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے کے لئے نئے طریقہ کار اپنانے پر 100 بلین ڈالر کی مزید ضرورت ہوگی۔“

امریکہ کے وزیر توانائی Dr. Steven Chu نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے ترقی یافتہ ملکوں کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کاسامنا کرنے کے لئے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ملکوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ” ہم نے کلین انرجی کے لئے 80 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے لیکن صرف امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک کے اقدامات ہی کافی نہیں ہیں جب کہ 2030 تک سبز مکانی گیسوں کا 97 فیصد اخراج ترقی پذیر ملکوں سے ہوگا۔“

مالدیپ کے صدر محمد نشید نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ مسئلہ عالمی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز اور Conflict Resolution باہم مربوط ہیں اور عالمی حدت کے نتیجے میں ہر سال تین لاکھ افراد بے گھر ہوجاتے ہیں۔

کانفرنس میں شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جس طرح ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بھارت میں سبز انقلاب آیا تھا اسی طرح اب ایک گرین پاور ریولیوشن لانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ : افتخار گیلانی‘ نئی دہلی

ادارت: عاطف بلوچ