1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے یورپی یونین کا منصوبہ، تنقید کا شکار

ترقی پذیر ممالک نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے تجویز کئے گئے، یورپی یونین کےمالی فنڈ کو ناکافی قرار دیا ہے۔ جی 77 گروپ نے دس اعشاریہ چھ بلین ڈالر کے اس منصوبے کو پائیداری کے حوالے سے غیر اہم قرار دیا ہے

default

کوپن ہیگن میں مظاہرہ

جی 77 گروپ نے دس اعشاریہ چھ بلین ڈالر کے اس منصوبے کو مالی حوالے سے تھوڑا اور پائیداری کی مناسبت سے غیر اہم قرار دیا ہے۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے جمعہ کو برسلز منعقدہ ایک اہم ملاقات میں سات اعشاریہ دو بلین یورو کے ایک ایسے فنڈ پر اتفاق رائے کیا تھا جو آئندہ تین سالوں کے دوران غریب ممالک میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے موثر کردار ادا کر سکیں۔

Logo G77 Entwicklungsländer

جی 77 گروپ کا لوگو

اس موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی یونین نے اس فنڈ پر متفق ہو کر اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے یورپی ممالک سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ہر سال، اس فنڈ سے دو سے چار بلین ڈالر خرچ کئے جائیں گے۔ کوپن ہیگن کانفرنس کے دوران یونین کا یہ قدم، ایک صاف اشارہ ہے کہ یورپی ممالک بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔

اس فنڈ میں ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے تمام رکن حصہ ڈالیں گے۔ شدید کساد بازاری کا شکار ملک برطانیہ اس فنڈ میں ایک اعشاریہ دو بلین پونڈ کی خطیر رقم مختص کرےگا۔

دوسری طرف کوپن ہیگن میں شریک ترقی پذیر ممالک کے گروپ جی 77 نے کہا کہ یہ منصوبہ طویل المدتی بنیادوں پر سرمایہ کاری کے لئے کوئی راستہ فراہم نہیں کرتا۔ چین سمیت 130 ممالک پر مشتمل جی 77 گروپ کے ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین کا یہ منصوبہ نہ صرف غیر اہم ہے بلکہ اس سے ان شکوک میں مزید اضافہ ہوتا ہے کہ یورپی یونین ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق اپنے وعدوں کو نبھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ سوڈان سے تعلق رکھنے والے Lumumba Stanislaus Dia-Ping نے مزید کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یورپی یونین موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔

یورپی یونین کے اس منصوبے کے بارے میں چین کے نائب وزیر خارجہ He Yafei نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے لئے یہ آسان ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے تین سال کا کوئی منصوبہ بنا دیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک تین سالوں کے بعد کیا کریں گے۔

Kopenhagen Klimagipfel Proteste

کوپن ہیگن کانفرنس کے دوران مظاہرے بدستور جاری ہیں

المختصر ترقی پذیر ممالک کے مطابق یورپی یونین کی طرف سے تجویز کیا گیا مالی معاونت کا یہ منصوبہ نہ صرف مبہم ہے بلکہ پائیدار بھی نہیں ہے۔

دریں اثناء ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جاری عالمی کانفرنس کے ہال کے باہر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ 67 ممالک کے 515 گروپوں نے ہفتے کے دن بڑے پیمانے پر مظاہروں کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان مظاہروں میں ہزاروں افراد شرکت کریں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین