1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ماحولیاتی تبدیلیاں ’کِنگ پنگوئین‘ کے لیے سنگین خطرہ

سمندروں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ’کِنگ پنگوئین‘ کی حیات کو ’شدید خطرات‘ لاحق ہو گئے ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بحر ہند کے ان پرندوں کو شکار لیے اب زیادہ طویل سفر بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

Königspinguine

سیٹلائیٹ ٹرانسمیٹرز کی مدد سے سولہ برسوں تک ان پرندوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔

جاپان اور فرانس کے محققین نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سمندروں کے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ’کِنگ پنگوئین‘ اپنے شکار کے لیے زیادہ فاصلہ طے کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ان پرندوں کا تولیدِ سلسلے یا نسل بڑھانے کا دورانیہ مختصر ہو کر رہ گیا ہے۔

’نیچر کمیونکیشنز‘ میں شائع ہونے والی اس مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندری پانیوں کے درجہ حرارت میں ایک سینٹی گریڈ کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شمالی بحر ہند کے جزائر کروزیٹ میں سکونت پذیر یہ پنگوئین اب شکار کے لیے مزید شمال کی طرف 130 کلو میٹر کا سفر کر رہے ہیں۔

محققین نے سیٹلائیٹ ٹرانسمیٹرز کی مدد سے سولہ برسوں تک ان پرندوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان پرندوں کو شکار کی خاطر نہ صرف زیادہ دور جانا پڑ رہا ہے بلکہ مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کو پکڑنے کے لیے انہیں زیادہ گہرائی میں بھی اترنا پڑتا ہے۔

BdT Deutschland Zoo Königspinguine in Wuppertal

کنگ پنگوئین کا ’بریڈنگ سیزن‘ بھی متاثر ہو رہا ہے

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شکار کے لیے اس محنت کے باعث کنگ پنگوئین کا ’بریڈنگ سیزن‘ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان پرندوں کے تولیدی عمل میں چونتیس فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، ’’شکار کرنے والے ایسے پرندے جو اڑ نہیں سکتے، جیسا کہ پنگوئین ہیں، ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ بالخصوص ’بریڈنگ پیریڈ‘ کے دوران ان کی کارکردگی بھی سست ہو کر رہ گئی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات