1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ماحولیاتی تبدیلیاں، اقوام متحدہ کی رپورٹ

اقوام متحدہ کی طرف سے2009 کی ورلڈ اکانومک اینڈ سوشل سروے رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس میں ماحولیاتی تبدیلی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

default

Promoting Development, Saving the Planet کے نام سے اس رپورٹ کے پیش لفظ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور ترقی کو درپیش چیلنج کے درمیان تعلق کو تسلیم کرتے ہوئے گیسوں کے کم اخراج والی ٹیکنالوجی اور اعلٰی ترقی والے راستوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے کوئی ایک مخصوص خاکہ نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے تمام ملکوں کو خود اپنا جائزہ لیتے ہوئے دستیاب ممکنہ متبادل کو استعمال کرنا چاہئے۔

مشہور ماہرماحولیات اور یہاں سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ کی سربراہ سنیتا نارائن نے اس رپورٹ کا اجراء کرتے ہوئے کہا: ’’ماحولیات کو بچانے کے لئے ترقی یافتہ ملکوں پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس کے لئے انہیں اپنا لائف اسٹائل بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلائمٹ چینج کا مسئلہ بہت اہم ہے اور آلودگی کو کم کرنے کے لئے بہت جلد قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جو ترقی یافتہ ممالک ہیں انہیں آلودگی کو کم کرنا پڑے گا اور جو ترقی پزیر ملک ہیں انہیں بھی آلودگی کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے انہےں پیسہ چاہیے، ٹکنالوجی چاہئے تاکہ وہ اپنی آلودگی کم کرسکیں۔‘‘

Ban Ki Moon eröffnet UNCTAD-Konferenz in Ghana

بان کی مون ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے کوشاں

خیال رہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان کافی اختلافات ہیں۔ سنیتا نارائن کا کہنا ہے کہ جب تک ترقی پزیر ملکوں کو ان کا پورا حق نہیں ملتا ہے اور منصفانہ حل سامنے نہیں آتا ہے اس وقت تک اس معاملے میں کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا : ’’درجہ حرارت آج جس تیزی سی بڑھ رہا ہے اسے دو ڈگری پر روکنا ہوگا۔ یہ ابھی 1.5 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے لئے آلودگی کم کرنی ہوگی۔‘‘

ماہر ماحولیات سنیتا نرائن نے کہا کہ خود ترقی یافتہ ملکوں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے ان کی مجموعی ترقی پر برا اثر پڑے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانا ہے تو 2050 تک گیسوں کے اخراج میں عالمی پیمانے پر 50 تا 80 فیصد کمی کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن تمام جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اب تک اس ضمن میں قابل ذکر کام نہیں کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے ایک اہم پہلو یعنی توانائی کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پزیر ممالک توانائی کی ضروریات مختلف ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں جہاں توانائی وافر مقدار میں دستیاب ہے وہیں بیشتر ترقی پزیر ممالک اس کے حصول کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا میں اب بھی 1.6 سے 2 بلین افراد بجلی سے محروم ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت قابل تجدید توانائی کے لئے کام کرنے والے ملکوں میں قائدانہ رول ادا کررہا ہے لیکن یہ کام سبسڈی کی بنیاد پر ہورہا ہے جسے زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: عاطف توقیر