1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ماحولیاتی آلودگی کا قدیم ترین سراغ

سائنسدانوں نے اسپین اور جبرالٹر کی غاروں سے ایسا مواد دریافت کیا ہے جو زمین پر قدیم ترین آلودگی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ دھاتوں کے استعمال سے پیدا ہونے والی یہ آلودگی امکاناً حجری دور کے انسانوں نے کی تھی۔

default

حجری دور کا انسان کی بنائی گئی تصویر

محققین نے دھات کے استعمال سے پیدا ہونے والی قدیم ترین ماحولیاتی آلودگی کا سراغ لگا لیا ہے۔ سائنسدانوں کو اِس سراغ کے حصول کے لیے ہسپانوی اور جبرالٹر کی کئی غاروں میں تحقیق کرنا پڑی۔ دستیاب ہونے والے قدیمی مواد کے لیبارٹری تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ ہزار ہا برس قبل ماحولیاتی آلودگی بھاری دھاتوں کے استعمال سے ہوئی تھی۔ اِس حیران کن دریافت اور اُس کے نتائج کی تفصیلات معتبر سائنسی جریدے ’سائنٹیفک رپورٹس‘ میں شائع کی گئی ہیں۔

قدیمی دور میں جن بھاری دھاتوں کا استعمال کیا گیا تھا، ان میں تانبہ، سیسہ، نِکل اور زِنک نمایاں ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حجری دور کے انسان آگ، شعلوں، جلتے کوئلوں اور راکھ کے استعمال سے ان دھاتوں کو پگھلانے یا انہیں نرم کرتے تھے۔ آگ اور بھاری دھاتوں کا یہ ملاپ قدیمی دور میں یقینی طور پر ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنا تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ حجری دور کے انسان شاید ماحولیاتی آلودگی کا اُتنا ادراک نہیں رکھتے تھے، جتنا آج کے انسان رکھتے ہیں۔

Spanien Höhlenmalerei El Castillo EINSCHRÄNKUNG

ہسپانوی اور جبرالٹر کی غاروں میں قدیمی دور کی باقیات دستیاب ہوئی ہیں

اسپین کے ایک کونے میں واقع برطانوی زیرانتظام جبرالٹر کی ایک غار جو ’’گراہم کی غار‘‘ کے نام سے مشہور ہے، سے سائنسدان بھاری دھاتوں کے حجری دور میں استعمال کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جبرالٹر کی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ انسانوں کے ہاتھوں پیدا ہونے والی یہ قدیم ترین آلودگی کے نشان ہیں۔ اسی طرح جبرالٹر کی ایک اور غار ’وین گارڈ‘ غار سے بھی ایسی ہی نشانیاں دستیاب ہوئی ہیں، جو ماحولیاتی آلودگی سے متعلق ہیں۔ ان دونوں غاروں میں دھاتوں اور آگ کے ملاپ سے جو ذرات فضا میں منتقل ہوئے وہ غار کے اندرونی حصے میں اپنا نقش چھوڑ گئے تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ جبرالٹر کی غاروں میں حجری دور کے چھوٹے ماتھے اور ابھری بھنووں والے انسانوں کی نشانیاں محفوظ انداز میں دستیاب ہوئی تھیں۔

اُدھر جنوبی اسپین میں ال پِیرلیخو (El Pirulejo) میں واقع غاروں سے بھی ایسے آثار ملے ہیں، جن سے ظاہر ہوا ہے کہ پتھر کے دور کا انسان آگ کے ذریعے بعض بھاری دھاتوں کے استعمال کا ہنر جانتا تھا۔ ال پِیرلیخو کی غاروں سے سیسے اور گندھک کے ایک مرکب لیڈ سلفائیڈ کے ذرات دستیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایک اور ہسپانوی مقام گران ڈولینا کی غاروں سے بھی بھاری دھاتوں کے قدیمی دور میں استعمال کا پتہ چلا ہے۔ وسطی اسپین کے علاقے سیرا ڈے اتاپیورکا کی ایک غار سے بھی ایسے ہی آثار ڈھونڈے گئے ہیں۔