1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

مائیکل کلارک آسٹریلوی ٹیم کےکپتان مقرر

آسٹریلیا میں کرکٹ کے نگران ادارے کرکٹ آسٹریلیا نے رکی پونٹننگ کی جانب سے اپنی ٹیم کی قیادت چھوڑنے کے بعد مائیکل کلارک کو کپتان مقرر کر دیا ہے۔ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ کھیلی جانے والی سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔

default

مائیکل کلارک

رکی پونٹنگ آسٹریلیا کے کامیاب ترین کپتان رہے ہیں۔ ان کی جانب سے ٹیم کی قیادت کے فرائض سے دستبرداری کے اعلان کے بعد، یہ ذمہ داری مائیکل کلارک کو سونپ دی گئی ہے، جو پونٹنگ کے نائب رہے ہیں۔ اب نائب کپتان آل راؤنڈر شین واٹسن ہوں گے۔

یوں مائیکل کلارک آسٹریلیا کی ٹیم کے تینتالیسویں کپتان بن گئے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے کیمرون وائٹ کو کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

مائیکل کلارک نے ٹیسٹ کرکٹ کا شاندار آغاز 2004ء میں شاندار سنچری سے کیا تھا۔ اپنے پہلے میچ میں 168 رنز بنائے تھے۔ یہ میچ بھارتی شہر بنگلور میں کھیلا گیا تھا۔ اب ان کی عمر 29برس ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے کلارک بھی بہترین فارم میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں کھیلی جانے والی روایتی ایشز سیریز میں بھی ان کی مجموعی کارکردگی مایوس کن تھی۔

وہ آئندہ چند سیریز کے دوران قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ نہ کر سکے تو ان سے یہ ذمہ داری واپس بھی لی جا سکتی ہے۔ آسٹریلیا میں بعض حلقے پہلے ہی ایسے خدشے کے تحت وکٹ کیپر بریڈ ہاڈن کو کپتان مقرر کرنے کی وکالت کر رہے ہیں۔

Indien Cricket Ricky Ponting

رکی پونٹنگ

تجزیہ کاروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ مائیکل کلارک آئندہ ایک برس تک تو یہ فرائض انجام دیتے رہے گے۔ اس دوران آسٹریلوی ٹیم نے بنگلہ دیش میں تین ایک روزہ میچ کھیلنے کے بعد سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے دورے کرنے ہیں۔ ان میں ٹیسٹ اور ایک روزہ میچز شامل ہوں گے۔ اسی برس سری لنکا اور بھارت کی ٹیمیں بھی آسٹریلیا کے دورے کریں گے۔

کلارک ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک چودہ سنچریاں اسکور کر چکے ہیں۔ انہوں نے کل انہتر ٹیسٹ میچز میں اپنے ملک کی نمائندگی کی ہے۔ کلارک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی قومی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔

بنگلہ دیش کے دورے کے لیے ٹیم کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ سابق کپتان رکی پونٹنگ اس ٹیم میں شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پہلا ایک روزہ میچ نو اپریل کو کھیلے گی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس