1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مائیکل اینجلو کے فن پارے کی قدر سے ناآشنا امریکی شہری

مشہور اطالوی مصور مائیکل اینجلوکی بنائی ہوئی ایک تصویر ایک امریکی شہری کے گھر میں طویل عرصے سے آویزاں تھی۔ اب یہی پینٹنگ روم میں جاری ایک نمائش کا حصہ ہے، جس پر اس کا مالک بے حد خوش ہے۔

default

اندازہ ہے کہ مائیکل اینجلو نے یہ تصویر سولہویں صدی میں بنائی تھی۔ یہ تصویر امریکی شہر بفیلوکے ایک مقامی خاندان کی ملکیت ہے اور اس کے ارکان کو طویل عرصے تک اس فن پارے کی قدر و قیمت کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ بہرحال جب La Pieta with two Angels نامی یہ تصویر روم میں جاری بین الاقوامی نمائش کے لیے منتخب کی گئی اور اس کے مالکان کو اس کی اہمیت کا علم ہوا تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ ان کے بقول یہ بہت ہی اعزاز کی بات ہے کہ اب تک جو تصویر ان کے گھر میں سجی تھی، وہ اب ایک اتنی بڑی نمائش کا حصہ ہے۔

دوسری جانب اس تصویر کے حوالے سے شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ فن پارہ مائیکل اینجلو کی نہیں بلکہ ان کے کسی ساتھی کی تخلیق ہے۔ روم میںThe Renaissance in Rome: A Token to Michelangelo and Raphael نامی یہ نمائش 12فروری تک جاری رہے گی۔ اس میں کل 170 فن پارے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس تصویر کے مالک مارٹن کوبرکا کہنا ہے کہ اس فن پارےکے لیے یہ ایک سنگ میل ہے کہ اسے اتنی بڑی نمائش میں جگہ دی گئی ہے اور اسے مائیکل اینجلو اور رفائیل سمیت اس دور کے دیگر نامور مصوروں کے شاہکاروں کے ساتھ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

Michelangelo Sixtinische Kapelle Die Erschaffung Evas

مائیکل اینجلو نے La Pieta with two Angels نامی تصویر اپنی ایک دوست کے لیے بنائی تھی، کوبر

مارٹن کوبر بتاتے ہیں کہ بچپن میں وہ اپنے بھائی کے ساتھ گھر میں کھیل رہے تھے، جب انہیں چمڑے کے ایک غلاف میں لپٹی یہ تصویر ملی تھی۔ ان کے بقول یہ پینٹنگ گزشتہ 25 برسوں سے ان کے گھر میں ہی ایک جگہ پر رکھی ہوئی تھی۔ پھر انہوں نے اسے نکال کر اس پر پڑی گرد صاف کی اور گھر کی ایک دیوار پر لٹکا دیا۔ مارٹن کوبر نے بتایا کہ امریکی ایئر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اس تصویر کے بارے میں تحقیق کرنا شروع کی تو انہیں معلوم ہوا کہ مائیکل اینجلو نے یہ تصویر اپنی ایک دوست وکٹوریا کولونا کے لیے بنائی تھی۔ اس کے بعد یہ تصویرکروشیا میں مختلف نمائشوں کا حصہ بنی، جس کے بعد یہ جرمنی سے ہوتی ہوئی 1883ء میں امریکہ پہنچی۔

مائیکل اینجلو کے فن پر کام کرنے والی ایک تنظیم نے گزشتہ برس اس فن پارے کو دیکھ کر یہ تصدیق نہیں کی تھی کہ یہ مائیکل اینجلو ہی کے برش کا کمال ہے اور نہ ہی اس تنظیم کے ماہرین نے اس امکان کو مسترد کیا تھا۔ اگر یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ یہ پینٹنگ مائیکل اینجلو ہی کی ایک تخلیق ہے تو ایک اندازے کے مطابق اس کی قیمت 100 سے 300 ملین ڈالر کے درمیان تک ہو سکتی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : مقبول ملک