1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مائیکروویو میں گرم کیا گیا کھانا بھی اذیت ہے، قاتل کی شکایت

ناروے میں 77 افراد کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ آندرس بیہرنگ بریوک نے بدھ کے روز عدالت کو بتایا کہ اسے جیل میں تنہائی میں رکھا جاتا ہے، جب کہ کھانے کے لیے مائیکروویو میں گرم کیا گیا کھانا دیا جاتا ہے۔

بریوک نے عدالت میں شکایتی درخواست جمع کرائی تھی، جس میں اس نے جیل میں خود کو درپیش حالات کو یورپی کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ بریوک کی اسی شکایت پر عدالت میں سماعت جاری ہے۔

بدھ کے روز عدالت میں بریوک نے بتایا کہ اسے مائیکروویو میں گرم کیا ہوا کھانا دیا جاتا ہے، جو اس کے نزدیک ’واٹر بورڈنگ‘ کی سزا سے بھی زیادہ برا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ صرف اپنے ’نازی یقین‘ کی وجہ سے اب تک یہ سب کچھ برداشت کر پایا ہے۔

بریوک نے سن 2011 میں اوسلو اور ایک قریبی جزیرے میں دہشت گردانہ کارروائی کرتے ہوئے 77 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ جرم ثابت ہونے پر اسے 21 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم اس مجرم کو شکایت ہے کہ جیل میں اسے مناسب حالات کا سامنا نہیں، وہ قید تنہائی کا شکار ہے جب کہ اسے کھانا مائیکروویو میں گرم کیا ہوا دیا جاتا ہے، جو انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ ناروے کی حکومت بریوک کے ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

Norwegen Massenmörder Anders Behring Breivik Klage gegen Haftbedingungen

بریوک کا کہنا ہے کہ اسے جیل میں تنہائی کا شکار کیا جا رہا ہے

بدھ کے روز عدالت میں اپنے طویل بیان میں اس قاتل کا کہنا تھا کہ اس کی بار بار تلاشی لی جاتی ہے، جب کہ اسے کسی سے ملنے بھی نہیں دیا جاتا، ٹھنڈی کافی دی جاتی ہے اور وہ بھی پلاسٹ کے برتنوں میں۔

تاہم پہلے روز کی عدالتی کارروائی میں پتہ چلا تھا کہ جیل میں اسے ایک پلے اسٹیشن (ویڈیو گیم کنسول) دیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایک آرام کرسی اور جامد سائیکل بھی اسے دستیاب ہے۔ یہ بھی سامنے آیا تھا کہ وہ ابھی حال ہی میں جیل میں منعقدہ ایک کرسمس پارٹی میں بھی شریک تھا، جب کہ اس نے اس پارٹی میں کیک بنانے کے مقابلے میں بھی شرکت کی تھی۔

حکومتی وکلاء نے عدالت میں اخبارات، میگزین، کتابیں، کھیل، ڈی وی ڈیز پر دیکھی گئی فلمیں اور میوزک اور بریوک کے زیراستعمال دیگر تفریحی مواد بھی عدالت میں پیش کیا۔

تاہم بریوک کو شکایت ہے، ’’یہ انتہائی بری تنہائی ہے۔ مجھے ہر روز 23 گھنٹے بند رکھا جاتا ہے۔‘‘ اس کا مزید کہنا تھا، ’’پانچ برس سے ریاست کی کوشش ہے کہ وہ مجھے اپنے طریقوں سے قتل کرے۔ جانوروں کی طرح برتاؤ سے تو بہتر تھا کہ وہ مجھے گولی ہی مار دیتے۔‘‘