1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مائیکروسافٹ کا متوقع ٹیبلٹ کمپیوٹر

ایپل کی جانب سے رواں برس فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے ٹیبلٹ کمپیوٹر آئی پیڈ نے فروخت کے اعتبار سے نئے ریکارڈز قائم کیے ہیں۔

default

قریب ساڑھے نو انچ اونچے اور ساڑھے سات انچ چوڑے جبکہ محض آدھا انچ موٹائی والے تختی نما یہ کمپیوٹر دنیا بھر میں کمپیوٹر صارفین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تاہم اب خبر آئی ہے کہ معروف سافٹ ویئر کمپنی مائیکروسافٹ آئی پیڈ کی ٹکر پر بہت جلد ٹیبلٹ کمپیوٹر متعارف کرانے والی ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ یہ ٹیبلٹ کمپیوٹر اب تک ٹیبلٹ کمپیوٹر مارکیٹ پر ایپل کمپنی کے آئی پیڈ کیےتسلط کو چیلنج کرے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق مائیکروسافٹ کی طرف سے یہ ٹیبلٹ کمپیوٹر نئے سال کی ابتدا یعنی جنوری میں امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی کنزیومر الیکٹرانکس نمائش میں پیش کیا جائے گا۔

ونڈوز سیون آپریٹنگ سسٹم کا حامل یہ ٹیبلٹ کمپیوٹر ابتدائی طور پر معروف الیکٹرونک کمپنیوں Samsung اور Dell کی طرف سے بنایا جائے گا۔ ونڈوز سیون کی بدولت اس کمپیوٹر پر وہ تمام پروگرام چل سکیں گے، جو اس آپریٹنگ سسٹم کے حامل عام کمپیوٹرز پر کام کرتے ہیں۔

مائیکروسافٹ کی جانب سے پیش کردہ اس ٹیبلٹ کمپیوٹر کی ایک اور خاص بات اس کا سلائڈ آؤٹ کی بورڈ ہے، یعنی ایسا کی بورڈ جو بظاہر تونظر نہیں آئے گا مگر ضرورت پڑنے پر اسے باہر کھینچ کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ ایپل اور گوگل کی جانب سے متعارف کردہ ٹیبلٹ کمپیوٹرز میں کی بورڈ موجود نہیں ہے۔

Flash-Galerie Berlin IFA Internationale Funkausstellung 2010 Tablet Computer

ٹیبلٹ کمپیوٹرز کو بہت جلد مقبولیت حاصل ہوئی ہے

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سام سنگ کا تیارکردہ ٹیبلٹ کمپیوٹر اپنی بناوٹ اور سائز میں اپیل کے آئی پیڈ سے ہی مشابہ ہے۔ اس کمپیوٹر کا اصل ہدف کاروباری افراد ہیں، جو مائیکروسافٹ کی نظر میں ایک اہم اور بڑی مارکیٹ ہیں۔

مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکیٹو سٹیو بالمر نے رواں سال HP کے بنائے ہوئے اور Windows 7 آپریٹنگ سسٹم کے حامل ٹیبلٹ کمپیوٹرکی رونمائی کی تھی۔ تاہم بعد میں HP کی طرف سے اس ٹیبلٹ کمپیوٹر کے لیے پام نامی آپریٹنگ سسٹم خریدنے کے فیصلے کے بعد مائیکروسافٹ نے اس پروگرام سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM