1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مائيکل جيکسن کی ذاتی اشياء کی نمائش

پاپ ميوزک کے کنگ کہلائے جانے والے مائيکل جيکسن کے اس دنيائے فانی سے رخصت ہوئے ابھی کچھ زيادہ عرصہ نہيں گذرا ليکن ان کی شوز کے دوران استعمال کی گئی چيزوں اور دوستوں کو بطور تحفہ دی جانے والی چيزوں کی نمائش ہورہی ہے۔

default

جیکسن کی جوانی کا ایک پورٹریٹ

آنجہانی امريکی گلوکار مائيکل جيکسن اپنے کنسرٹس میں جو لباس، دستانے، موزے اور دیگر اشیاء استعمال کيا کرتے تھے،ان کی ایک نمائش جاپانی دارالحکومت ٹوکيو ميں شروع ہو گئی ہے۔

بعد ازاں کنگ آف پاپ میوزک کی شخصیت سے وابستہ یہ اشیاء اسی سال مکاؤ ميں بہت سی دیگر اہم شخصیات اور فنکاروں کی نجی املاک کے ساتھ نیلام کر دی جائیں گی۔ سابقہ پرتگالی نوآبادی مکاؤ ميں یہ نیلامی اکتوبر ميں ہو گی۔

ٹوکيو کی نمائش ميں مرحوم مائيکل جيکسن کے زیر استعمال رہنے والی 60 سے زيادہ اشياء رکھی گئی ہيں۔ امريکی تجارتی نیلام گھر جولين آکشنز کے چيف ايگزيکٹو ڈيرن جولين کہتے ہیں: ’’يہ مائيکل جيکسن کی ملکیت اشیاء کا وہ بہترين ذخيرہ ہے، جو ہم اب تک اکٹھا کر سکے ہيں۔ يہ تمام اشیاء ہميں مائيکل جیکسن کے اہل خانہ اور دوستوں سے ملی ہيں، جو مائيکل نے کبھی نہ کبھی انہيں تحفے میں دے دی تھیں۔‘‘

Michael Jackson Trauerfeier Flash-Galerie

آنجہانی مائنکل جيکسن بنکاک ميں ايک شو کے دوران اپنے مخصوص انداز میں

ان اشياء ميں دائيں ہاتھ کا جڑاؤ موتيوں والا دستانہ، ايک جيکٹ جو جيکسن سن 1984 ميں پيپسی کولا کے ايک اشتہار ميں پہنے ہوئے تھے، جس دوران ايک حادثے ميں وہ شديد طور پر جل بھی گئے تھے، اور ان سفيد سوتی موزوں جیسی چیزیں شامل ہيں، جن پر شفاف موتی جڑے ہوئے ہيں۔

اس کے علاوہ اس نمائش میں ايک نارنجی رنگ کی شرٹ بھی نشامل ہے، جو مائيکل جيکسن 1992 ميں باسکٹ بال کے مشہور کھلاڑی مائيکل جورڈن کے ساتھ بنائے گئے ’جيم‘ نامی ويڈيو میں پہنے ہوئے تھے۔ ان اشیاء میں سرخ رنگ کے سنہری ’جمپ سوٹس‘ کا وہ پورا سيٹ بھی ہے، جو مائیکل جيکسن اور ان کے بہن بھائی سن 1970 کے عشرے ميں پہنا کرتے تھے۔

مائيکل جيکسن کی مستعمل اشیاء کی يہ نمائش چھ ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے بعد اسے سانتياگو دے چلی لے جایا جائے گا۔ وہاں سے یہ اشیاء مکاؤ لائی جائیں گی، جہاں نیلامی کے لئے نو اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس