1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ، دو پولیس افسران برطرف

دو بھارتی پولیس افسران کو گزشتہ برس دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک مرد ہے اور دوسری خاتون اور یہ دونوں آپس میں شادی شدہ ہیں۔

default

’دنیا کی چھت‘ کہلانے والی زمین پر بلند ترین پہاڑی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے منگل آٹھ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملکی حکام نے آج بتایا کہ اس شادی شدہ جوڑے نے، جو دونوں پولیس افسران ہیں، گزشتہ برس یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے نیپال میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر لیا تھا۔

لیکن دراصل انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا اور اسی وجہ سے اب کھٹمنڈو میں ملکی حکومت نے ان دونوں بھارتی شہریوں کے کوہ پیمائی کے لیے نیپال میں داخلے پر دس سال کی پابندی بھی لگا دی ہے۔

عالمی ریکارڈ: بھارتی خاتون ایک ہفتے میں دو بار ماؤنٹ ایورسٹ پر

بلااجازت ’دنیا کی چھت‘ پر چڑھنے کی کوشش، 22 ہزار ڈالر جرمانہ

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی کم عمر ترین لڑکی کی کہانی

کھٹمنڈو حکومت نے مطابق ان بھارتی شہریوں کے نام دنیش راٹھور اور تارا کیشواری راٹھور ہیں، جنہوں نے ’دنیا کی چھت‘ پر چڑھ کر کوہ پیمائی کا اعلیٰ ترین انفرادی اعزاز حاصل کرنے کے اپنے چھوٹے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے جو تصویریں جاری کی تھیں، وہ درحقیقت ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے ہی میں اتاری گئی ایسی تصاویر تھیں، جنہیں کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے رد و بدل کے بعد اس طرح بنانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جیسے یہ بھارتی ہندو جوڑا ماؤنٹ ایورسٹ پر کھڑا ہو۔

اے ایف پی کے مطابق یہ دونوں کوہ پیما آپس میں شادی شدہ ہونے کے علاوہ مغربی بھارتی شہر پونا کی پولیس کے دو افسران بھی ہیں۔ انہیں ان کے اس جھوٹے اور غیر قانونی دعوے کا اب یہ نتیجہ بھی مل گیا ہے کہ پونا کی پولیس نے اس معاملے میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد انہیں ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے۔

Nepal Mount Everest Camp 4

کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کا ماؤنٹ ایورسٹ کے کیمپ فور سے آگے تک کا سفر، فائل فوٹو

ایورسٹ کو سات بار سر کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون ایک نیپالی

دو برس بعد ماؤنٹ ایورسٹ کو پھر سر کر لیا گیا

نیپال میں زلزلے سے ماؤنٹ ایورسٹ بھی کھسک گیا

پونا کے ایڈیشنل پولیس کمشنر صاحب راؤ پاٹل نے اے ایف پی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ان دونوں افسران کے خلاف محکمے کی اندرونی انکوائری مکمل ہونے کے بعد انہیں گزشتہ ہفتے کے روز ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔‘‘

پاٹل نے کہا، ’’ان دونوں افسران کے خلاف یہ الزامات ثابت ہو گئے تھے کہ انہوں نے نہ صرف میڈیا کو غلط معلومات فراہم کیں بلکہ بھارتی اور نیپالی حکومتوں کو بھی دھوکا دیا۔‘‘

اس دھوکا دہی کے ثابت ہو جانے سے قبل 23 مئی 2016ء کو کھٹمنڈو میں نیپالی حکومت نے دنیش راٹھور اور ان کی اہلیہ تارا کیشواری راٹھور کو یہ سرٹیفیکیٹ بھی جاری کر دیے تھے کہ انہوں نے 8,848 میٹر یا 29,029 فٹ بلند دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر لیا تھا۔ انہیں جاری کیا گیا یہ سرٹیفیکیٹ اب منسوخ کیا جا چکا ہے۔

DW.COM