1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماؤنواز باغی: نئی دہلی کی نئی حکمت عملی

بھارتی حکومت ماؤ نواز باغیوں کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر غور کرے گی۔ یہ بات منگل کے روز ملکی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ماؤ نواز باغیوں کے تازہ ترین حملے کے پس منظر میں دالراحکومت نئی دہلی میں کہی۔

default

پیر کے روز وسطی بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک ضلع دانتے واڈا میں ماؤنواز باغیوں نے ایک مسافر بس کو ایک ز مینی بارودی سرنگ کے دھماکے سے اڑا دیا تھا، اور اس حملے میں 11 پولیس اہلکاروں سمیت کل 35 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

چھتیس گڑھ کے اس ضلع کو ماؤنواز باغیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں گزشتہ ماہ بھی انہی باغیوں نے ایک بہت بڑا حملہ کر کے 75 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ چھپ کر اچانک کیا جانےو الا یہ حملہ ان باغیوں کا سیکیورٹی دستوں پر اب تک کا سب سے خونریز حملہ ثابت ہوا تھا۔

Indien Maoisten Anschlag

چھتیس گڑھ میں گزشتہ ماہ بھی باغیوں نے ایک بہت بڑا حملہ کر کے 75 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا

ریاست چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رامن سنگھ کے بقول پیر کے حملے میں دو درجن کے قریب عام شہریوں کی ہلاکت اتنا بڑا واقعہ ہے جو ایک بار پھر اس مسئلے کی شدت کی نشاندہی کرتا ہے اور جس کے بعد ماؤنواز باغیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور بھی ناگزیر ہو گئی ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے منگل کے روز نئی دہلی میں کہا کہ بھارتی عوام ان باغیوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کے حق میں ہیں۔ اس لئے ملکی حکومت کو بھی اس بارے میں اپنی حکمت عملی اب لازمی طور پر تبدیل کرنا ہو گی۔ ’’میں نے اس معاملے کو کابینہ میں پیش کیا تھا تاکہ بھاری اکثریت سے اس کی منظوری دی جا سکے۔ لیکن مطلوبہ تائید نہ ملنے کے بعد اب میں اسے ایک بار پھر کابینہ کے اجلاس میں پیش کروں گا۔ اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘

بھارت میں ماؤنوازوں کی مسلح بغاوت سے متاثرہ چار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ حکومت سے یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ماؤپرست باغیوں کے خلاف فضائی طاقت استعمال کی جائے، تاہم نئی دہلی حکومت اب تک ایسے تمام مطالبات کو رد کرتی آئی ہے۔

دانتے واڈا میں باغیوں کے پیر کے روز کئے گئے خونریز حملے کی بھارت کی سبھی سیاسی جماعتوں نے بھر پور مذمت کی تھی۔ نئی دہلی میں حکمران جماعت کانگریس پارٹی کے ترجمان منیش تیواڑی کے مطابق بہت زیادہ شہریوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے ماؤنواز باغیوں کے اس حملے نے ان عسکریت پسندوں کی بربریت کا پول کھول دیا ہے۔

بھارت میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ان ماؤپرست باغیوں نے، جو اپنی جدوجہد کے لئے گوریلا کارروائیوں کی سوچ اپنائے ہوئے ہیں، گزشتہ برس اس وقت سے اپنے مسلح حملوں میں بہت زیادہ اضافہ کر رکھا ہے جب حکومتی دستوں نے ان کے خلاف ملک کے شمال سے لے کر مشرق تک پھیلے ہوئے ’ریڈ کوریڈور‘ نامی جنگلاتی علاقوں میں اپنے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ خود بھی کئی مرتبہ ان ماؤپرست باغیوں کو ملک کی داخلی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

Manmohan Singh

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ ان ماؤپرست باغیوں کو ملک کی داخلی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں

لیکن بھارت میں، جہاں دور دراز علاقوں میں اقتصادی پسماندگی بھی پائی جاتی ہے اور ریاستی حکومتوں پر اعتماد بھی کم کیا جاتا ہے، عام شہریوں کی کافی بڑی تعداد ان ماؤنواز باغیوں کی حامی بھی ہے۔

ماضی میں بھارتی وزیر داخلہ چدمبرم نے یہ بھی کہا تھا کہ ماؤپرست بغاوت کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے ان مذاکرات کے آغاز کو باغیوں کی طرف سے تشدد کا راستہ ترک کر دینے سے مشروط کیا تھا۔ اس پر ان باغیوں کے مرکزی رہنماؤں نے یہ کہا تھا کہ وہ مذاکرات پر صرف اس شرط پر تیار ہوں گے کہ پہلے ملکی حکومت ان کے خلاف چھ یونین ریاستوں میں جاری فوجی آپریشن بند کرے۔

ان مسلح کارروائیوں میں 56 ہزار پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے حصہ لے رہے ہیں۔ تازہ ترین حملوں کے بعد متاثرہ ریاستوں میں بہت سے عوامی حلقے اب نئی دہلی حکومت سے یہ مطالبے کرنے لگے ہیں کہ حکومت ماؤنواز باغیوں کے خلاف اب ایک ہی مرتبہ لیکن پوری قوت سے فیصلہ کن فوجی آپریشن کرے۔

رپورٹ: بریخنا صابر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM