1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’لیگزِٹ‘: لندن کو آزاد ریاست قرار دینے کی انوکھی تجویز

جمعرات کے ریفرنڈم میں یورپی یونین کے حق میں ووٹ دینے والے برطانوی دارالحکومت لندن کے شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایک انوکھی تحریک شروع کی ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ لندن برطانیہ سے الگ ہو کر یورپی یونین کے ساتھ مل جائے۔

England London Eye und Skyline von London

برطانوی دارالحکومت لندن کا ایک منظر

گو جمعرات کے ریفرنڈم میں انگلینڈ کے عوام کی اکثریت نے یورپی یونین کے خلاف ووٹ دیے تاہم لندن میں ووٹرز کی اکثریت کا فیصلہ یورپی یونین کے حق میں رہا۔

DW.COM

ریفرنڈم کے نتائج پر برطانوی عوام کے ایک کثیر تعداد کی طرح لندن کے باسی بھی حیران اور پریشان ہیں۔ سوشل میڈیا پر لندن کے اعلانِ آزادی کی تحریک بھی ان نتائج پر غم و غصے کی عکاسی کر رہی ہے اور ایک طرح کا علامتی احتجاج ہے۔

ایک لاکھ تیس ہزار سے زیادہ افراد نے لندن شہر کے میئر صادق خان کے نام اُس درخواست پر دستخط کیے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ’لندن کی برطانیہ سے آزادی کا اعلان کر دیں اور یورپی یونین میں شامل ہونے کی درخواست دے دیں‘۔ مزید کہا گیا ہے کہ ’لندن ایک بین الاقوامی شہر ہے اور ہم یورپ کے دل میں رہنا چاہتے ہیں‘۔

اس تحریک کا آغاز 29 سالہ فری لانس مصنف جیمز او مَیلی نے کیا، جس کا خیال تھا کہ شاید چند سو افراد ہی اس پٹیشن پر دستخط کریں گے۔ جیمز او مَیلی کے مطابق اُس نے ریفرنڈم کے نتائج پر مایوسی اور پریشانی میں ایک طرح کے مذاق کے طور پر یہ تحریک شروع کی تھی:’’میں یورپی یونین کا، اس کی اَقدار کا اور اس کے یوٹوپیائی تصورات کا ایک بڑا مداح ہوں، میں نہیں چاہتا کہ لندن اسے چھوڑے۔‘‘

میئر صادق خان اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں تاہم اُن کا کہنا ہے کہ جب برطانیہ یونین سے الگ ہونے کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کر ےگا تو وہ کوشش کریں گے کہ لندن کے موقف کو بھی اہمیت دی جائے۔

Großbritannien neues Gebäude Tate Modern Museum in London - Sadiq Khan

لندن کے میئر صادق خان

دریں اثناء برطانیہ میں ایک اور پٹیشن کو بھی زبردست مقبولیت حاصل ہو رہی ہے، جس پر اب تک 1.5 ملین سے زیادہ افراد دستخط کر چکے ہیں اور جس میں یورپی یونین میں رہنے یا اسے چھوڑنے کے لیے ریفرنڈم دوسری مرتبہ منعقد کروانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے:’’ہم حکومت سے یہ ضابطہ متعارف کروانے کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر ریفرنڈم میں عوام کی شرکت کا تناسب پچھتر فیصد سے کم ہو اور اُس میں یونین میں رہنے یا اسے چھوڑنے کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب ساٹھ فیصد سے کم ہو تو پھر ریفرنڈم دوسری مرتبہ منعقد کروایا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ جمعرات کو منعقدہ ریفرنڈم میں رائے دہندگان کی شرکت کا تناسب 72.2 فیصد رہا۔ 51.9 فیصد نے یورپی یونین چھوڑنے کے جبکہ 48.1 فیصد نے یونین میں شامل رہنے کے حق میں ووٹ دیے۔