1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیک کرتے تیل کے کنویں پر نیا ڈھکن نصب کرنے کی کوشش

امریکی ریاست لوزیانہ کے قریب خلیج میکسیکو کے سمندر کے نیچے برٹش پٹرولیم کے کنویں پر ایک بڑے ڈھکن کی تنصیب کا کام اگلے ہفتے کے دوران مکمل ہو نے کے امکانات ہیں۔ اس نئے ڈھکن سے تمام بہتا تیل کنٹرول ہو سکے گا۔

default

گزشتہ روز، ہفتہ کو برٹش پٹرولیم کمپنی نے خلیج میکسیکو میں تقریباً ایک کلو میٹر سے زائد گہرائی میں تیل کے اخراج کو کنٹرول کرنے کی ایک بڑی کوشش کا آغاز کردیا ہے۔ کنویں پر پہلے سے نصب ڈھکن کی جگہ ایک بڑا ڈھکن نصب کیا جا رہا ہے۔ اس کام پر چار سے سات دن لگ جائیں گے۔ برٹش پٹرولیم کے حکام کا خیال ہے کہ اس بڑے ڈھکن کی کامیاب تنصیب کے بعد خلیج میکسیکو کے اندر بہتے تیل کو پوری طرح کنٹرول کیا جا سکے گا۔ اس اہم مشن کی تکمیل میں کئی روبوٹ زیر سمندر مصروف ہیں۔

برٹش پٹرولیم نے تین جون کو لیک کرنے والے کنویں پر جو ڈھکن نصب کیا تھا ، اس کو ہٹا دیا گیا ہے۔ تیل کے مکمل بہاؤ کو روکنے میں تین جون کی

Öl Golf von Mexiko Katastrophe

چھ جون کو لی گئی تصویر میں بھی بہتے تیل کا اخراج دکھائی دے رہا ہے۔

کارروائی جزوی کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی۔ نئے ڈھکن کو سوراخ پر رکھنے کے بعد چاروں طرف سے سیل کردیا جائے گا اور اس طرح بہتا تیل باہر سمندر میں پھیلنے کے بجائے ایک پائپ کے ذریعے قریبی ٹینکر میں محفوظ کیا جا سکے گا۔

بہتے تیل کے کنویں پر نصب کیا جانے والا نیا ڈھکن انتہائی وزنی اور عظیم الجثہ ہے۔ اس کا وزن تہتر ٹن ہے۔ یہ زمین کی سطح سے زنجیروں کے ذریعے نیچے پہنچا دیا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نیا کیپ یا ڈھکن کنویں کے دھانے پر پوری طرح نصب ہو جائے گا۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو گئی تو اس سے برٹش پٹرولیم کو کسی حد تک راحت میسر ہو گی لیکن سردست خلیج میکسیکو میں سمندری طوفانوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ ابھی تیل روکنے کی حتمی کوشش میں یہ سمندری طوفان بھی حائل ہو سکتے ہیں۔ جولائی کے آخر تک کُل چار بڑے ذخیرہ کرنے والے ٹینکر بحری جہاز اُس پائپ کے قریب پہنچ جائیں گے جو سوراخ پر نئے ڈھکن کے ساتھ نصب کیا جائے گا۔ یہ بحری جہاز روزانہ اس پائپ کے ذریعے اسّی ہزار بیرل تک تیل ذخیرہ کر سکے گا۔

اس کارروائی کے ساتھ ساتھ دو امدادی کنووں کی کھودائی یا ڈرلنگ کا کام بھی جاری ہے۔ اس کے وسط اگست تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ برٹش پٹرولیم کا خیال ہے کہ ان امدادی کنووں سے بہتے تیل کو مکمل طور پر قابو کیا جا سکے گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM